Advertisement
  • کتاب”اردو گلدستہ” برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر05:نظم
  • شاعر کا نام: اختر شیرانی
  • نظم کا نام: پیارا وطن

نظم پیارا وطن کی تشریح

نہ ہو کیوں ہمیں دل سے پیارا وطن
ہے جنت کا ٹکڑا ہمارا وطن
سہانا ہے سندر ہے سارا وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن

یہ اشعار اختر شیرانی کی نظم “پیارا وطن” سے لیے گئے ہیں۔ اس بند میں شاعر اپنے وطن کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمارا وطن ہمیں دل سے پیارا کیوں نہ ہو یہ وطن تو جنت کا ٹکڑا ہے۔ ہمارا وطن بہت خوبصورت اور سہانا ہے۔ ہمارا وطن بہت پیارا وطن ہے۔

Advertisement
یہ سر سبز جنگل لہکتے ہوئے
یہ باغوں کے منظر مہکتے ہوئے
لہکتا مہکتا ہمارا وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ہمارے اس پیارے وطن میں خوبصورت اور لہکتے ہوئے جنگل ہیں۔ یہاں کے باغ بھی خوبصورت اور مہکتے ہوئے نظارے پیش کرتے ہیں۔ میرا یہ پیارا وطن لہکتا اور مہکتا ہوا ہے۔ یہ ہم سب کا پیارا وطن ہے۔

Advertisement
بہاریں ہیں باغوں میں چھائی ہوئی
گھٹائیں ہیں کیا رنگ لائی ہوئی
خوشی سے ہے بھر پور سارا وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرے پیارے وطن کے باغوں پہ بہاریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس وطن پر نجانے گھٹائیں بھی کیا کیا رنگ لا رہی ہیں۔ میرا یہ پورا وطن ہی خوبصورت اور خوشی سے بھرپور ہے۔ یہ ہے میرا پیارا پیارا وطن۔

وطن کے فسانے سناتے ہیں ہم
یہی گیت دن رات گاتے ہیں ہم
ہم۔اس کے ہیں یہ ہے ہمارا وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنے وطن کے خوبصورت قصے سناتے ہیں۔ اور ہم اس وطن کی خوبصورتی اور عظمت کے فسانے دن رات گاتے رہتے ہیں۔ ہم اس وطن کے باسی ہیں اور یہ محبوب وطن ہمارا وطن ہے۔ ایسا ہے ہمارا پیارا وطن۔

Advertisement

سوالات:

شاعر نے جنت کا ٹکڑا کس کو کہا ہے؟

شاعر نے اپنے پیارے وطن کو جنت کا ٹکڑا کہا ہے۔

جنگل اور باغوں کے بارے میں شاعر کیا کہہ رہا ہے؟

شاعر کہتا ہے کہ میرے وطن کے جنگل خوبصورتی سے لہک رہے ہیں۔ اس کے باغوں کا ایک ایک منظر مہکتا ہو اہے۔

Advertisement

ہمارا وطن کس سے بھر پور ہے؟

ہمارا وطن خوشیوں سے بھرپور ہے۔

اس نظم کو زبانی یاد کیجیے اور لکھیے۔

طلبہ اس نظم کو یاد کرنے کے بعد لکھیں۔

Advertisement