کسی شخص یا چیز کی تعریف یا مذمت اس حد تک کرنا کہ سننے والے کو یہ گمان ہو کہ اس وصف یا ذم کا کوئی اور مرتبہ باقی نہیں رہا۔ اس کی ایک قسم "غلو” ہے۔

غلو کہتے ہیں، جس بات کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ عادت اور عقل دونوں کے لحاظ سے قرین قیاس نہ ہو۔ جیسے:

Advertisement

آج پھر یاد آگئے کچھ بیتے دن
آج پھر آنکھوں سے دریا بہہ گیا

عادتاً اور عقلاً دونوں لحاظ سے آنکھوں سے دریا کا بہنا قرین قیاس نہیں ہے لیکن شاعر نے "دریا” بول کر ‘کثرت اشک’ مراد لیا ہے۔