Advertisement


صنعت قلب

انسان کو انسان اس لئے کہتے ہیں کہ وہ جلد مانوس ہو جاتا ہے اور قلب کو قلب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ قلب کے لغوی معنی بدلنا کے ہیں۔ ‘انقلاب’ لفظ اسی سے مشتق ہے۔

Advertisement

اگر کسی لفظ کو الٹنے سے وہی لفظ دوبارہ بن جائے تو اسے صنعت قلب کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی لفظ کے حروف ادل بدل کر سارے کے سارے دوسرے میں آجائیں تو یہ سب تقلیب کی صورتیں ہیں۔اس کی تین صورتیں ہیں۔ جن میں قلب کل، قلب بعض اور قلب مستوی شامل ہیں۔ صنعت قلب کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔

Advertisement

دنیا میں ہے خزانہ لڑائی کا گھر صدا
از رو غور گنج کو الٹو تو جنگ ہے

Advertisement

اس شعر میں لفظ "گنج” کو الٹنے پر لفظ جنگ بنتا ہے۔ لہذا اس شعر میں صنعت قلب کا استعمال ہوا ہے۔

Mock Test 10

صنائع لفظی کی اقسام 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement