Advertisement

وہ علم جس کے تحت کسی معنی کو ادا کرنے کے لیے نت نئے انداز نکالے جائیں علم بیان کہلاتا ہے۔ علم بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بات کو کس طرح مختلف طریقوں سے بیان کیا جائے کہ ایک کے معنی دوسرے سے زیادہ واضح اور دلکش ہوں۔

Advertisement

علم بیان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کلام کے سمجھنے میں غلطی کا امکان کم ہو اور معنی میں خوبصورتی پیدا ہو۔ علم بیان دراصل الفاظ کے چناؤ کا تعین کرتا ہے، اس کا موضوع لفظ ہے جسے دو طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Advertisement

1 حقیقی معنوں میں:-

یعنی لفظ کو ان معنوں میں استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ وضع ہوا ہے یا بنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلام کی زیبائی یا حسن الفاظ سے وابستہ ہے۔ اگر لفظ کی جگہ اس کے معنی استعمال کیے جائیں تو کلام کا حسن ختم ہوجائے۔ مثلاً: شیر اگر کسی کے لیے استعمال ہو تو اس سے مراد وہی درندہ ہو۔

Advertisement

2 مجازی معنوں میں:-

یعنی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ اس کے مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے۔ مثلاً: شیر کسی کے لیے استعمال کر کے اس کی بہادری مراد لی جائے۔

  • علم بیان کے چار ارکان ہیں
  • 1 تشبیہ
  • 2 استعارہ
  • 3 مجاز مرسل
  • 4 کنایہ
Advertisement

Advertisement

Advertisement