تعلی کہتے ہیں کہ شاعر اپنے کسی شعر میں اپنی شاعری کی برائی کی طرف اشارہ کرے یا بیان کرے۔ جیسے:

ہم مزاج غزل سے ہیں خوب آشنا
ہم سے قائم ہے حسنِ غزل دوستو!

Advertisements