Advertisement

جب کلام میں ایک اصل کے چند لفظ لائے جائیں اور ان لفظوں میں اصل لفظ کے حروف کی ترتیب بھی قائم رہے اور اصل میں جو معنی ہیں اس سے بھی موافقت ہو تو اسے صنعت اشتقاق کہتے ہیں۔ مثلاً:

Advertisement

تو مرے حال سے غافل ہے پرائے غفلت کیش
ترے انداز تغافل نہیں غفلت والے

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement