Advertisement

تضاد کہتے ہیں شعر میں ایسے الفاظ کو ایک ساتھ لایا جائے جن میں بہ اعتبار معنی تضاد یعنی ضد پائی جائے۔یہ شاعری میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی صنعت ہے۔ اس کو تکافؤ، طباق بھی کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔

Advertisement

اسے فکر کیا سزا و جزا کی
تیری آرزو جس نے صبح و مسا کی

Advertisement

اس شعر میں ‘صبح’ و ‘مسا’ (شام) میں معنوی تضاد ہے۔

Advertisement

ایک اور مثال دیکھیے۔

امیر شہر کو اس سے غرض کیا
فقیر شہر کب سے دربدر ہے

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement