تجاہل عارفانہ

اس کے لغوی معنی ہیں ‘جان بوجھ کر انجان بننا’۔ اصطلاح میں کسی چیز کو جاننے کے باوجود اس سے اپنی ناواقفیت ظاہر کرنا تجاہل عارفانہ کہلاتا ہے۔اس کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔

بھری محفل میں اظہارِ محبت
یہ لغزش اور پھر میری نظر سے؟

صنم سنتے ہیں تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے کس طرف کو ہے کدھر ہے

Close