Advertisement

⭕️ مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کریں:

اقتباس:”یوں تو وزیر اپنی کار میں بیٹھا کچھ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے۔ لیکن بے چینی سے بار بار گھڑی دیکھ رہا ہے کیونکہ غیر ملکی وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے۔ اس کا ڈرائیور گھبرایا ہوا کار سے اترتا ہے۔ کچھ دور جا کر دیکھ کر آتا ہے۔ اور پھر مایوس ہو کر گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگتا ہے۔”

Advertisement

حوالہ: یہ اقتباس ہماری کتاب جان پہچان میں شامل ہے۔ اور سبق کہانی "کاٹھ کا گھوڑا” سے لیا گیا ہے۔ اس کے مصنف رتن سنگھ ہے۔

Advertisement

تشریح: دراصل بندوں کا ٹھیلہ بہت دھیرے چلتا ہے۔ وہ ایک بھیڑ بھاڑ علاقے میں پھنس جاتا ہے۔ اور ایسا کاٹ کا گھوڑا بن جاتا ہے جو ہلبھی نہیں سکتا۔ راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اسی راستے میں وزیر کی کار بھی پھنس جاتی ہے۔ ویسے تو وزیر کار میں اپنے ساتھیوں سے بات کر رہا ہے۔ مگر وزیر کو بہت بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ اور وہ بار بار اپنی گھڑی میں وقت دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ باہر سے آئے ہوئے کچھ لوگوں کی جماعت سے ملنے کا وقت بہت نزدیک آ رہا ہے۔ وہ یہ بات سمجھ نہیں سکا کہ آگے سے راستہ اس طرح کیوں بند ہو گیا ہیں؟ وزیر کا ڈرائیور بھی بار بار اپنی گاڑی سے اتر کر اور آگے کی طرف جا کر دیکھ کر آتا ہے اور پھر انتظار کرنے لگتا ہے۔

Advertisement

⭕️ غور کریں:

▪️ہم اس دنیا رات دن دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے کاروبار کی دوڑ دھوپ میں بہت آگے نکل جاتے ہیں اور کچھ لوگ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں غور کرنا چاہئے کہ جو آگے نکلتے ہیں تو وہ کیوں نکلتے ہیں۔ اور جو پیچھے رہتے ہیں تو کیوں رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں ان لوگوں کے نقشے قدم پر چلنا چاہئے جو لوگ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
▪️ہمارے لیے یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیچھے رہ جانے والے لوگ پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا علم ہو جائے تو ہم اپنی منزل کی طرف پہنچنے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔

⭕️سوالات و جوابات:

سوال1: بندو کو کاٹھ کا گھوڑا کیوں کہا گیا ہے؟

جواب: بندو کو کاٹھ کا گھوڑا اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہل ڈُل نہیں سکتا۔

Advertisement

سوال2: بندو کی سست رفتاری کا اثر کن لوگوں پر پڑا؟

جواب: کہ ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار، کاروباری، دفتروں کے افسر، دکاندار، وردیوں والے فوجی اور پولیس والے سفید کالروں والے بابوں عام آدمی، سودا سلف خریدنے کے لیے گھروں سے نکلیں عورتیں، اسکولوں اور کالجوں کے بچے، ڈاکٹر، نرس، انجینئر سبھی کے سبھی ٹھہر گئے ہیں۔ لگتا ہے جیسے بندوں کی سست رفتاری کی وجہ سے سارے شہر بلکہ ایک طرح سے یوں کہا جائے کہ سارے ملک، ساری دنیا کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔

سوال3: وزیر کی بےچینی کا سبب کیا تھا؟

جواب: وزیر کی بے چینی کا سبب یہ تھا کہ اس کا غیر ملکی وفد سے ملنے کا وقت نزدیک آرہا تھا اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے؟

Advertisement

سوال4: کاروباریوں کے لیے "پل” کے معنی لاکھوں کے گھاٹے کیوں ہیں؟

جواب: کاروباریوں کے لیے "پل” کے معنی لاکھوں کے گھاٹے اس لیے ہیں کہ وہ ایک پل میں لاکھوں روپے کا سودا کرتے ہیں۔

سوال5: چندو کے بارے میں بندو کے ذہن میں کیا خیال آیا؟

جواب: بندوں کے ذہن میں اپنے آٹھ نو سال کے بیٹے چندو کے بارے میں یہ خیال آیا کہ اس نے صرف اس وجہ سے اسکول جانا بند کر دیا ہے کہ وہ اس کے لئے ضرورت کی چیزیں جٹا نہیں پاتا۔

Advertisement

سوال6: پیروں میں پہئے لگوانے سے بندو کی مراد کیا تھی؟

جواب: پیروں میں پہئے لگوانے سے بندو کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ تیزی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مجھے اپنی طرح تیز بنا دیں۔

⭕️ لفظوں کے جملے بناۓ:
﴿قطار، رفتار، کیفیت، فخر، دشوار، حرکت﴾

قطارضرورت مندوں کی قطار لمبی ہوتی جا رہی ہے۔
رفتاروقت کی رفتار سے قدم ملا کر چلنا چاہیے۔
کیفیتہمیں ہر کیفیت میں صابر و شاکر رہنا چاہیے۔
فخراچھی باتوں پر فخر کرنا چاہئے
دشوارمحنت اور لگن سے دشوار کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
حرکتحرکت کرنے میں ہی برکت ہے۔

⭕️ خالی جگہیں بھریے:
﴿حرکت، سوانگ، رفتار، ساکت، شخصیت﴾

  • 1۔ ساری دنیا کی….. رفتار….. دھیمی پڑ گئی۔
  • 2۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا گھوڑا….. ساکت….. بے جان تھا۔
  • 3۔ اس نے بھی اپنے گھوڑے کے ٹانگوں کے بیچ پھنسا کر دوڑنے کا….. سوانگ….. کیا تھا۔
  • 4۔ وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی….. شخصیت….. سے چپک کر رہ گیا۔
  • 5۔ اس کے پاؤں میں….. حرکت….. آۓ تو زندگی بڑھے۔

⭕️ جملوں پر غور کیجئے:

  • 1۔ اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں۔
  • 2۔ ان کے پاس رسی کے سہارے گھومنے والے رنگین لٹو تھے۔
  • 3۔ کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔

نوٹ:
پہلے جملے کے آخر میں (ہیں) ہے۔
دوسرے جملے کے آخر میں (تھے) ہے۔
تیسرے جملے کے آخر میں (گی) ہے۔

Advertisement

(ہیں) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات موجودہ زمانے کی ہے۔ موجودہ زمانے کو حال کہتے ہیں۔

(تھے) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات گزرے زمانے کی ہے، گزرے زمانے کو ماضی کہتے ہیں۔

Advertisement

(گی) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات آنے والے زمانے کی ہے، آنے والے زمانے کو مستقبل کہتے ہیں۔

⭕️ جملوں کی نشاندہی کریں:

  • 1۔ ارمش علی کل آئی تھی۔ (ماضی)
  • 2۔ ارمش بازار سے لوٹ آئی ہے۔ (حال)
  • 3۔ گرمی کا موسم جا رہا ہے۔ (حال)
  • 4۔ ہم عید کے دن ملیں گے۔ (مستقبل)
  • 5۔ سردی کا زمانہ آۓ گا۔ (مستقبل)

⭕️ اپنے استاد کی مدد سے گھوڑے کی تصویر بنا کر اس میں مناسب رنگ بھرو۔

⭕️رتن سنگھ کی حالات زندگی:

نام : رتن سنگھ
پیدائش: 1927ء ضلع سیالکوٹ، قصبہ داؤد پاکستان میں
تعلیم : مقامی اسکول سے میٹرک تک حاصل کی۔

Advertisement

وطن کی تقسیم کے بعد رتن سنگھ ہندوستان چلے آئے اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کرنے لگے۔ ملازمت کے دوران رتن سنگھ ہندوستان کے کئی مختلف شہروں میں رہے۔ رتن سنگھ کو شروع ہی سے افسانہ نگاری کا شوق تھا۔ رتن سنگھ نے کئی کہانی لکھیں۔ رتن سنگھ کو افسانے کی دنیا میں بہت شہرت ملی۔ رتن سنگھ کے کئی افسانوی مجموعہ سائع ہوئے۔ ان کے دو مشہور ناول بھی ہیں۔ انہوں نے دوسری زبانوں کے مضامین کے ترجمے بھی کیے ہیں۔ اور کچھ نظمیں وغیرہ بھی لکھی ہیں۔ ان کا نثر میں اندازِ بیان بہت صاف ستھرا، سادہ، دلکش،آسان، سہل اور خوبصورت ہیں۔ ان کی عوامی نثر نگاری واقعی میں قابل تعریف ہے۔

تحریر ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement