Advertisement
Advertisement

سبق کا خلاصہ:

اس افسانے میں مصنف ایک نوجوان کا تذکرہ کررہے ہیں جو خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا اور وہ مال روڈ پر چل رہا تھا۔ وہاں اسے کچھ بچے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہ انھیں تکتا رہتا ہے یہاں تک وہ بچے وہاں سے شرما کرچلے جاتے ہیں۔یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی قلمیں چمکتے ہوئے بال باریک باریک موچھیں بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شریتی رنگ کے گلاب کا ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا سر پر سبز فیلٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلو بند گلے کے گرد لپٹا ہوا ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی جسے کبھی کبھی وہ مزے میں آکے گھمانے لگتا تھا۔

Advertisement

نوجوان نے سڑک کنارے لگی سیمنٹ کی بینچ پہ بیٹھ کر سیگریٹ پی اور پھر گھومنے پھرنے کے لیے دوکانوں میں آگیا۔نوجوان سب سے پہلے انگریزی موسیقی کی ایک دوکان میں گیا وہاں اس نے ایک بڑے پیانو کو اٹھا کر ٹٹولا پھر اس کا کور بند کر دیا۔وہاں سے اس نے گراموں فون ریکارڈوں کی لسٹ طلب کی اس کے بعد راستے میں ایک چھوٹا سا بک اسٹال آیا۔

نوجوان یہاں بھی رکا، کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے۔ رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا۔ اور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اُس کی توجہ کو جذب کیا۔ مالک نے جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا، گرم جوشی سے اُس کی آؤ بھگت کی ۔ ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتاریے نہیں، یہیں دیکھ لوں گا۔ کیا قیمت ہے اس کی ؟ دکاندار نے کہا آپ پسند کر لیجیے ہم جتنی بھی رعایت کر سکتے ہیں کر دیں گے۔ شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں۔

Advertisement

دو تین منٹ کے بعد وہ اُس دکان سے بھی نکل آیا اور پھر اپنی مٹرگشت شروع کر دی۔ اس کے بعد نوجوان ایک لڑکے اور لڑکی کے پیچھے چل رہا تھا۔ لڑکا اور لڑکی پل بھر کور کے پھر سڑک پار کر کے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔ جب وہ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو نوجوان نے لپک کر اُن کا پیچھا کرنا چاہا مگر ابھی اُس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہوگی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اُسے کچلتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔نوجوان کو جب ہسپتال لایا گیا تو ہسپتال کی ںرسیں آپس میں یوں بات کرنے لگیں شہناز نے گل سے کہا:

Advertisement

کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے۔”
گل دبی آواز میں بولی:
خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے “آپریشن کے لیے جب نوجوان کے کپڑے اتارے گئے تونوجوان کے گلوبند کے نیچے نکٹائی اور کالر کیا سرے سے قمیض ہی نہیں تھی ۔ اوورکوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بہت بوسیدہ اونی سوئٹر نکلا جس میں جابجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ اُن سوراخوں سے سوئٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آ رہا تھا۔

نوجوان سلک کے گلوبند کو کچھ اس ڈھب سے گلے پر لیٹے رکھتا تھا کہ اُس کا سارا سینہ چھپا رہتا۔ اُس کے جسم پر میل کی جنہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیں نہایا البتہ گردن خوب صاف تھی اور اس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے ایک پرانی دھجی سے جو شاید کبھی نکٹائی ہوگی خوب کس کے باندھا گیا تھا۔ بٹن اور بکسوئے غائب تھے دونوں گھٹنوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا اور کئی جگہ کھونچیں لگی ہوئی تھیں۔

Advertisement

چونکہ یہ حصے اوور کوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لئے لوگوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی تھی۔اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گل کی آنکھیں چار ہوئیں۔ بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے مگر ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے بالکل مختلف تھی۔ دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں ۔دونوں نرسوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اتنے میں سنگِ مر مر کے ٹھنڈے بینچ پہ پڑا نوجوان مر چکا تھا اور اس کی لاش خود سے اور لوگوں سے نظریں چراتے ہوئے دیوار کی جانب منھ موڑے ہوئے تھی۔

  • مشق:

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحریر کیجیے۔

نوجوان کی وضع قطع کیا تھی؟

یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی قلمیں چمکتے ہوئے بال باریک باریک موچھیں بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شریتی رنگ کے گلاب کا ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا سر پر سبز فیلٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلو بند گلے کے گرد لپٹا ہوا ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی جسے کبھی کبھی وہ مزے میں آکے گھمانے لگتا تھا۔

نوجوان نے کس قسم کا اوور کوٹ پہنا ہوا تھا؟

نوجوان بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے تھا۔

نوجوان کن کن دکانوں میں گیا اور اس نے وہاں سے کیا کچھ خریدا ؟۔

نوجوان سب سے پہلے انگریزی موسیقی کی ایک دوکان میں گیا وہاں اس نے ایک بڑے پیانو کو اٹھا کر ٹٹولا پھر اس کا کور بند کر دیا۔وہاں سے اس نے گراموں فون ریکارڈوں کی لسٹ طلب کی اس کے بعد راستے میں ایک چھوٹا سا بک اسٹال آیا۔ نوجوان یہاں بھی رکا، کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے۔ رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا۔ اور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اُس کی توجہ کو جذب کیا۔ مالک نے جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا، گرم جوشی سے اُس کی آؤ بھگت کی ۔ ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتاریے نہیں، یہیں دیکھ لوں گا۔ کیا قیمت ہے اس کی ؟ دکاندار نے کہا آپ پسند کر لیجیے ہم جتنی بھی رعایت کر سکتے ہیں کر دیں گے۔ شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں۔ دو تین منٹ کے بعد وہ اُس دکان سے بھی نکل آیا اور پھر اپنی مٹرگشت شروع کر دی۔

Advertisement

نوجوان کس طرح حادثے کا شکار ہوا ؟

نوجوان ایک لڑکے اور لڑکی کے پیچھے چل رہا تھا۔ لڑکا اور لڑکی پل بھر کور کے پھر سڑک پار کر کے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔ جب وہ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو نوجوان نے لپک کر اُن کا پیچھا کرنا چاہا مگر ابھی اُس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہوگی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اُسے کچلتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔

نرسوں نے نوجوان کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا؟

شہناز نے گل سے کہا:
کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے۔”
گل دبی آواز میں بولی:
خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے “

آپریشن کے لئے نوجوان کے کپڑے اُتارے گئے تو کس چیز کا انکشاف ہوا؟

آپریشن کے لیے جب نوجوان کے کپڑے اتارے گئے تونوجوان کے گلوبند کے نیچے نکٹائی اور کالر کیا سرے سے قمیض ہی نہیں تھی۔ اوورکوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بہت بوسیدہ اونی سوئٹر نکلا جس میں جابجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ اُن سوراخوں سے سوئٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آ رہا تھا۔ نوجوان سلک کے گلوبند کو کچھ اس ڈھب سے گلے پر لیٹے رکھتا تھا کہ اُس کا سارا سینہ چھپا رہتا۔ اُس کے جسم پر میل کی جنہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیں نہایا البتہ گردن خوب صاف تھی اور اس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے ایک پرانی دھجی سے جو شاید کبھی نکٹائی ہوگی خوب کس کے باندھا گیا تھا۔ بٹن اور بکسوئے غائب تھے دونوں گھٹنوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا اور کئی جگہ کھونچیں لگی ہوئی تھیں۔ چونکہ یہ حصے اوور کوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لئے لوگوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی تھی۔اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گل کی آنکھیں چار ہوئیں۔ بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے مگر ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے بالکل مختلف تھی۔ دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں۔

Advertisement

اس کہانی سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے؟

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہری دکھاوے کے لیے انسان کو خود کو کبھی بھی دھوکے میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے ایسا دھوکہ کہ جو انسان کو دنیا کی نظروں میں شرمندہ کروا دے۔

مندرجہ ذیل الفاظ کے معانی لغت میں تلاش کیجیے اور انہیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

الفاظجملے
خوش پوشجنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش کو جوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا
خراماں خراماںاحمد خراماں خراماں پٹڑی پر چلنے لگا۔
بلا تکلفمہمان نے میزبان سے کہا کہ بلا تکلف ہمیں اپنی پسند سے آگاہ کریں۔
آؤ بھگتعلی نے اپنے مہمانوں کی خوب آؤ بھگت کی۔
ازراہِ دردمندی نرسوں نے ازراہِ دردمندی نوجوان کی طرف دیکھا۔
بلاشبہبلاشبہ زندگی بہت مشکل ہے۔
مٹر گشتنوجوان نے پھرسےاپنی مٹرگشت شروع کر دی۔

مندرجہ ذیل جملوں کو آسان فہم انداز میں تحریر کیجیے۔

جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش کو جوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور خراماں خراماں پٹڑی پر چلنے لگا۔جنوری کی ایک شام کو ایک خوش لباس کو جوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور آہستہ آہستہ پٹڑی پر چلنے لگا۔
ان میں ہر وضع اور ہر قماش کے لوگ تھے۔ان میں ہر وضع اور ہر قسم کے لوگ تھے۔
نوجوان نے شام سے اب تک اپنی مٹرگشت کے دوران جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف منعطف نہیں کیا تھا۔نوجوان نے شام سے اب تک اپنی آوارہ گردی کے دوران جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا تھا۔
اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اُسے چلتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے تیزی سے آئی اور اُسے چلتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔
جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔

سبق کے متن کو مد نظر رکھتے ہوئے دیے گئے بیانات کو درست کر کے دوبارہ تحریر کیجیے۔

یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا غریب معلوم ہوتا تھا۔یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔
راستے میں نوجوان کی نظر لکڑی کی ایک خالی کرسی پر پڑی۔راستے میں نوجوان کی نظر سیمنٹ کے ایک خالی بینچ پر پڑی۔
نوجوان کا اپنا اوور کوٹ تھا تو خاصا نیا مگر اس کا کپڑا خوب پرانا تھا۔نوجوان کا اپنا اوور کوٹ تھا تو خاصا پرانا مگر اس کا کپڑا خوب بڑھیا تھا۔
لڑکا اور لڑکی کافی دیررکے پھر سڑک پار کر کے مال روڈ پر چل پڑے۔لڑکا اور لڑکی پل بھر کورکے پھر سڑک پار کر کے مال روڈ پر چل پڑے۔
دو تین مزدور جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچانے لگے۔دو تین راہ گیر جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچانے لگے۔
جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی بہت جان باقی تھی۔جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی بہت رمق باقی تھی۔

مندرجہ ذیل جملوں میں واحد اسموں کو جمع اور جمع کو واحد میں تبدیل کیجیے اور ضروری تبدیلیوں کے بعد جملہ دوبارہ تحریر کریں۔

بچہ اپنا کام ختم کر چکا ہے۔بچے اپنا کام ختم کر چکے ہیں۔
ماں نے بچے کو ڈانٹا۔ماں نے بچوں کو ڈانٹا۔
بھکاری بھیک مانگ رہا ہے۔بھکاری بھیک مانگ رہے ہیں۔
لڑکا میدان میں کرکٹ کھیل رہا ہے۔لڑکے میدان میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔
دکاندار نے گاہک کو سودا دیا۔دوکاندار نے گاہکوں کو سودا دیا۔
جنگل میں شیر ہوتا ہے۔جنگل میں شیر ہوتے ہیں۔

مندرجہ ذیل الفاظ کے متضاد تحریر کیجیے۔

الفاظمتضاد
گرمٹھنڈا
بڑھییاگھٹیا
مصروففارغ
انسانیحیوانی
نوجوانبوڑھا
تازہباسی
باریکموٹا
بارونقبے رونق

سبق میں سے اسم ظرف مکاں اور اسم ظرف زماں کی تین تین مثالیں تلاش کر کے تحریر کیجیے۔

اسم ظرفِ مکاںاسم ظرفِ زماں
میکلوڈ روڈ ، دفتر، مال روڈ ، ہسپتال،ڈیوس روڈشام ، ہفتہ ، جنوری

Advertisement

Advertisement