• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر16: نظم
  • شاعر کا نام: فیض احمد فیض
  • نظم کا نام: فلسطینی بچے کے لیے لوری

نظم فلسطینی بچے کیلیے لوری کی تشریح

مت رو بچے
رو رو کے ابھی
تیری امی کی آنکھ لگی ہے
مت رو بچے
کچھ ہی پہلے
تیرے ابا نے
اپنے غم سے رخصت لی ہے

فیض احمد فیض نے یہ نظم فلسطینی بچوں کے نام لکھی ہے۔ اس بند میں شاعر اس بچے کو، جس کے گھر والے جنگ کی نذر ہو چکے ہیں کہتا ہے کہ اے بچے ابھی مت رو کیوں کہ تمھاری ماں کی ابھی آنکھ لگی ہے یعنی وہ سو گئی ہے اور کچھ دیر پہلے تمھارے ابا نے ہر طرح کے غم سے نجات پائی ہے۔یہاں بچے کی ماں کے سونے اور باپ کے غم سے نجات پانے سے شاعر کی مراد ہے کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ماں جو نیند سوئی ہے وہ ابدی نیند ہے جبکہ اس کے باپ نے اس دنیا کا سفر کر لیا ہے یہاں دکھ سکھ،غم وغیرہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔

مت رو بچے
تیرا بھائی
اپنے خواب کی تتلی پیچھے
دور کہیں پردیس گیا ہے
مت رو بچے
تیری باجی کا
ڈولا پرائے دیس گیا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے بچے مت رو کیوں کہ تمھارا بھائی اپنے خواب کی تتلی کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور اس خواب کے پیچھے بھاگتا بھاگتا وہ دور پردیس نکل گیا ہے۔ اور تمھاری باجی کا ڈولا بھی رخصت ہو کر پردیس نکل چکا ہے۔ یہاں پردیس جانے سے شاعر نے ابدی دنیا جانا مراد لیا ہے۔

Advertisement
مت رو بچے
تیرے آنگن میں
مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں
چندرما دفنا کے گئے ہیں
مت رو بچے
امی،ابا،باجی،بھائی
چاند اور سورج

اس بند میں شاعر بچے کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اے بچے تمھارے آنگن میں مردہ سورج کو نہلا دیا گیا ہے اور چاند کو بھی نہلا دیا گیا ہے۔ان اشعار میں شاعر نے بچے کی امی،ابا،باجی اور بھائی کو گھر کے چاند اور سورج کہا ہے جن کو گہنا دیا گیا ہے۔

تو گر روئے گا تو یہ سب
اور بھی تجھ کو رلائیں گے
تو مسکائے گا تو شاید
سارے اک دن بھیس بدل کر
تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے بچے اگر تم روؤں گے تو یہ لوگ تمھیں اور زیادہ رلائیں گے لیکن اگر تم رونے کی بجائے مسکراؤ گے تو شاید تمھارے ماں ،باپ اور بہن بھائی بھیس بدل کر تم سے ملنے آئیں گے۔ تمھارے ساتھ مل کر کھیلیں گے۔

سوچیے اور بتایئے:

تیری امی کی آنکھ لگی ہے’ مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

شاعر اس مصرعے میں کہنا چاہتا ہے کہ تمھاری امی کی آنکھ لگی ہے مراد تمھاری امی سو رہی ہیں اور ان کی یہ نیند ابدی نیند ہے۔

نظم میں "پردیس” جانے سے کیا مراد ہے؟

نظم میں پردیس جانے سے مراد ابدی دنیا میں جانا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آئے گا۔

شاعر نے سورج اور چاند کن لوگوں کو کہا ہے؟

شاعر نے بچے کے ماں باپ کو سورج اور بہن بھائی کو چاند کہا ہے۔

بچے کے مسکرانے کا کیا اثر ہو گا؟

بچے کے مسکرانے سے اس کے گھر والے بھیس بدل کر اس سے ملنے آئیں گے۔

کن لوگوں کے بھیس بدل کر لوٹ آنے کی بات کہی گئی ہے؟

بچے کے گھر والوں کے بھیس بدل کر لوٹ کر آنے کی بات کی گئی ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

پردیسپردیس میں رہنے والے ہمیشہ اپنے وطن کی یاد میں تڑپتے ہیں۔
ڈولا دلہن کا گھر سے ڈولا اٹھ گیا۔
آنگن ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔
رخصتبیٹے کو سفر کے لیے رخصت کرتے وقت ماں زور و قطار رونے لگی۔
بھیساحمد جادوگر کا بھیس بدل کر لوگوں کو محظوظ کرتا ہے۔
لوٹپرندے لوٹ کر گھونسلوں کو جا رہے تھے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

غمخوشی
پردیسدیس
روناہنسنا
پرایااپنا
دنرات

ان لفظوں کے مذکر بنائیے۔

اماںابا
رانیراجہ
میناطوطا
بہنبھائی
لڑکیلڑکا
بیٹیبیٹا