رپور تاژ پودے کا خلاصہ:

کرشن چندر کی تحریر "پودے” انجمن ترقی پسند مصنفین حیدر آباد کی کانفرنس کی روداد ہے۔سردار جعفری اور کرشن چندر کالج سے آئے تو فراق، احتشام اور ڈاکٹر عبد العلیم لکھنو سے آئے ہوئے تھے۔عریانی پر بحث جاری تھی۔اس امر کے متعلق تجاویز پیش کی جا رہی تھیں۔جس سے یہ بحث طویل ہوگئی۔

فراق حسن پسند تھے اس لیے اسے عریانی سے نفرت نہیں تھی۔احتشام کی طبیعت میں ٹھہراؤ تھا اس لیے وہ عریانی سے بدکتے نہیں تھے۔ان میں ایک ڈاکٹر عبد العلیم بھی تھے جن کے نزدیک یہ طفلانہ باتیں تھیں۔ حلیے کے اعتبار سے ڈاکٹر عبد العلیم ہشاش بشاش چہرے والے انسان تھے جو وضع قطع سے فرانسیسی معلوم ہوتے تھے لیکن طرز تکلم سے ہیڈ ماسٹر اور کمیونسٹ دکھائی دیتے تھے۔ان کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ ہمیشہ صحیح بات غلط موقع پر کرتے تھے۔

اس کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر ملک راج آنند نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان میں بھی فرانسیسی انسائیکلوپیڈسٹس کی طرح ایک تحریک جاری کی جائے۔بہت سے لوگوں نے اس انقلابی تجویز کی حمایت کی۔حمایت کرنے والوں میں ریاست پیکانیر کے وزیر بھی تھے۔صرف ایک آدمی ڈاکٹر عبد العلیم کی وجہ سے یہ تجویز مسترد کر دی گئی تھی۔

اس کانفرنس میں ڈائس پر سروجنی نائیڈو، جواہر لعل نہرو، رادھا کرشن،برلین اورلڈ،فازسٹر،ملک راج آنند،احمد شاہ پطرس بخاری وغیرہ موجود تھے۔ڈاکٹر صاحب کا کردار ایسا تھا کہ سچائی کو سب کے سامنے پوری شدت سے پیش کرتے تھے۔اکثر اوقات ہمدرد بھی ان کے مخالف ہوجاتے تھے۔ایک طرح سے وہ ادیبوں کے مہاتما گاندھی تھے۔ہندوستان میں اگر ادیبوں کی ذہنی، فکری یا خارجی غلطیوں کا کوئی محکمہ احتساب ہوتا تو ڈاکٹر صاحب ہی اس کے سربراہ ہوتے۔

حسرت موہانی بھی کانفرنس کے شرکا میں تھے۔حسرت موہانی اور قاضی عبد الغفار نے عریانی کی تحریک کی مخالفت کی کیونکہ ان کے مطابق اس سے نوجوان اذہانوں کی تخلیقی قوتیں سلب ہو جائیں گی۔ مولانا کی تقریر سے یہ قرارداد مسترد کر دی گئی۔مولانا کے کرادار کو بیان کرتے ہوئے ان کی یہ خوبی بیان کی گئی ہے کہ یہ جہاں گئے لوگوں کو مصیبت سے دو چار کیا۔کانگریس سے بھی لاہور کانفرنس کے موقع پر بددل ہوکر مسلم لیگ میں آگئے تھے۔

کانفرنس میں دوپہر کو پریم چند سوسائٹی کا بھی افتتاح کیا گیا۔حسین ساکر کلب میں دعوت کا اہتمام کیا گیا اور ادیبوں کو بذریعہ کشتی کلب میں پہنچایا گیا۔ پچاس کے قریب ملازمین اور آٹھ کورس کا کھانا پیش کیا گیا۔اس سب سے اس حقیقت کی جھلک ملتی ہے کہ یورپ میں زندہ ادیب کی قدر و قیمت ہے تو ہندوستان میں مر جانے کے بعد ادیب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جیسے کہ پریم چند کو ملی تھی۔

یہاں سب ادیب بہت لطف اندوز ہوئے۔قاضی عبد الغفار کی جبلی خوش طبعی اور متانت کی جھلک بھی دیکھنے کو ملی۔ ان کی شخصیت ایسی ہے کہ اس میں پیرس کی رنگینی کی جھلک بھی ملتی ہے تو عالمانہ زہد کی بھی۔شگفتہ پرادازی بھی ہےاور فکری ٹھہراؤ بھی۔ یوں کرشن چندر نے اس رپورتاژ کے ذریعے ادیبوں کی مجلس کی جھلک دکھائی کہ جب وہاں کوئی تحریک پیش کی جائے تو وہ کس طرح منظور یا رد کی جاتی ہے۔

سوالات:

سوال نمبر 1: ڈاکٹر عبد العلیم کے کردار کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟

ڈاکٹر عبد العلیم اپنی داڑھی اور وضع قطع سے فرانسیسی معلوم ہوتے تھے لیکن اپنے درشت انداز تکلم سے ہیڈ ماسٹر اور آگ بگولا ہوتے وقت سو فیصدی کمیونسٹ نظر آتے تھے۔ان کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ ہمیشہ صحیح بات غلط موقع پر کرتے تھے۔

سوال نمبر 2:ملک راج آنند کی پیش کردہ تجویز کیوں منظور نہ ہوسکی؟

ملک راج آنند نے تجویز پیش کی تو بہت سے لوگوں نے اس انقلابی تجویز کی حمایت کی۔لیکن ڈاکٹر عبد العلیم،حسرت موہانی اور قاضی عبدالغفار کی پر زور مخالفت کی وجہ سے یہ تحریک رد ہوگئی۔کیونکہ ان کے مطابق اس سے نوجوان اذہانوں کی تخلیقی صلاحیت رک جائے گی۔

سوال نمبر 3:ادیبوں کے احتساب کا محکمہ ڈاکٹر عبد العلیم صاحب کے پاس ہی ہونے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟

ادیبوں کے احتساب کا محکمہ ڈاکٹر عبد العلیم کے پاس ہی ہونے کہ وجہ یہ ہے کہ وہ سچائی کو اس شدت احساس کے ساتھ پیش کرتے تھے کہ اکثر ہمدرد بھی ان کے خلاف ہو جاتے تھے۔انھیں اس کی کو ئی پرواہ نہ تھی۔وہ ادیبوں کے مہاتما گاندھی تھے مگر عدم تشدد کے قائل نہ تھے۔

سوال نمبر 4: مولانا حسرت موہانی کے بارے میں کس رائے کا اظہار کیا گیا ہے؟

مولانا حسرت موہانی کے بارے میں یہ رائے دی گئی ہے کہ وہ جہاں گئے لوگوں کو مصیبت میں ڈالتے گئے اور ڈاکٹر عبد العلیم کا اگر کوئی مقابلہ کر سکتا تھا تو وہ حسرت موہانی ہی تھے۔

سوال نمبر 5: قاضی عبدالغفار کے کردار کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟وضاحت کیجئے۔

ان کی شخصیت پر متانت کا ایک دبیز پردہ پڑا ہوا ہے۔یہ پردہ اتنا دبیز بھی نہیں کہ ان کی فطری خوش طبعی اس متانت کے اندر سے جھلک نہ اٹھے۔متانت ہے مگر بوجھل نہیں،خوش طبعی ہے مگر کھل کر نہیں۔ان کی شخصیت میں دو رنگوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ان کی گفتگو میں فکری ٹھہراؤ،لباس میں امارت کی جھلک اور جاگیردارانہ تیور لیکن ذہنیت باغیانہ تھی۔

عملی کام:

سوال: آپ نے اپنے سکول میں کئی جلسے اور تقریبات دیکھی ہوں گی، ایسی کسی تقریب یا جلسے کے بارے میں ایک رپورتاژ لکھیں۔

دہلی ( پ ر) کیریئر سکول اینڈ گرلز کالج کی 23 ویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات کی پُر وقار فرانسیسی کلچر سینٹر کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں سکول کے ننھے طلبا و طالبات نے بہترین پرفارمینس دی اور حاضرین سے بھر پور داد وصول پائی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت ِ کلام پاک سے کیا گیا۔سکول کی پرنسپل مسز نائلہ عبید نے سپاسنامہ پیش کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ہماری اس تقریب کا ایک تھیم ہے جو کہ ـڈزنی لینڈـ ہے، تمام ٹیبلو اور پرفارمینس اسی تھیم کی مناسبت سے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اساتذہ بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں اسی لئے ہمارے سکول اور کالج میں ڈریس کوڈ اپنی مشرقی اور معاشرتی اقدار کے مطابق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی اعلیٰ تربیت پر بھی بھر پور فوکس کر رہے ہیں تا کہ وہ معاشرے کا ایک اہم اور فعال رکن بن کر اپنا کردار ادا کریں۔ مہمانِ خصوصی زمرد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لئے والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی پوری ذمہ داری سے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا اور ایک وقت آئے گا جب یہ نسل قابلِ رشک مقام تک پہنچ جائے گی۔ آخر میں مہمانِ خصوصی اور مہمانانِ گرامی نے مختلف کلاسز کے پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے۔