Advertisement

مرزا ظاہر دار بیگ کا خلاصہ:

مرزا ظاہر دار بیگ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول کا کردار ہے۔مرزا ظاہر دار بیگ جس کا حلیہ کچھ یوں ہے کہ چھوٹا قد،زرد رنگت،آنکھیں کرنجی اور دبلا ڈیل ڈول تھا۔وہ پاؤں میں ڈیڑھ ہاشیے کی جوتی اور سر پردوہری بیل کی بھاری کامدار ٹوپی پہنتے تھے۔ دو دو انگرکھے،گھٹنوں تک لٹکتا ریشمی ازار بند پہنتے اور اس میں قفل کی کنجیوں کا گچھا لٹکا ہوتا تھا۔

Advertisement

مرزا ایک جمعدار کے گھر میں پچھواڑے میں مقیم ہیں مگر شہر بھر میں خود کو اس کا منھ بولا بیٹا بتاتے ہیں۔ اور خود کو اس کی جائیداد کا وارث۔ایک بار جب مرزا کس دوست کلیم گھر سے ناراض ہوکر مرزا کے پاس قیام کے لیے آیا تو اس پر مرزا کی حقیقت کھلی۔کلیم نے جب اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو پہلے پہل تو مرزا نے پس وپیش سے کام لیا جب کہ پھر کلیم کو ایک مسجد میں ٹھہرایا جس کی حالت کچھ یوں تھی کہ وہ نہایت پرانی اور چھوٹی سی مسجد تھی۔یہ نہ کوئی طالب علم تھا،نہ حافظ،ملا اور مسافر۔

Advertisement

یہاں ہزاروں چمکادڑیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کانوں کے پردے پھٹے جا رہے تھے۔ یہاں کا تمام فرش بھی پھٹ چکا تھا۔ کلیم چونکہ گھر سے بنا کچھ کھائے آیا تھا جب اس نے مرزا سے کھانے کا مطالبہ کیا تو مرزا نے اول تو اسے بھوکے سونے کا مشورہ دیا کہ رات کافی ہوچکی ہے پھر اس کے لیے جا کر بھنے چنے لے آیا۔مرزا نے ان چنوں کی خوب تعریف کی اور کہا ان چنوں کی عجب سوندھی خوشبو ہے۔

لوگ مٹی کا عطر کشید کرتے ہیں اس جانب کسی کا دھیان کیوں نہ گیا۔ چھدامی کی دوکان پر اتنا رش تھا۔ اس کے ہاتھوں میں فن ہے جو بھنے ہوئے چنوں کو سڈول بنا دیتا ہے۔چنوں کی دال ایسی بنی ہے کہ اس پر کوئی خراش تک نہیں ہے۔دانوں کی رنگت ایسی خوبصورت ہے کہ کوئی بسنتی اور کوئی پستئی ہے۔ زمین سے اگنے والے پھل اور اناج بھی چنے کی لذت کو نہیں پا سکتے۔

Advertisement

مسجد میں جیسے تیسے کلیم کی رات بسر ہوئی صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنا بستر، جوتی اور دیگر سامان غائب پایا۔یہی نہیں اس کا اپنا حلیہ بھوت کی طرح کا ہوچکا تھا۔اول تو کلیم نے مرزا کے آنے کا انتظار کیا مگر جب مرزا کی کوئی خبر نہ آئی تو اس کے دروازے پر جا پہنچا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ مرزا صبح سویرے قطب جا چکے ہیں۔ کلیم نے یہ سوچا کہ اپنا تعارف کروا کر گھر والوں سے کچھ مدد طلب کرے تو تعارف کراتے ہی پہلا سوال رات بھیجے گئے بستر کے لیے داغا گیا۔ کلیم گھبرا کر بھاگا تو اس کو چور چور کہہ کر نہ صرف خوب پیٹا گیا بلکہ قاضی کے حوالے بھی کیا گیا۔کلیم نے مرزا سے دوستی کے خوب حوالے دیے مگر کچھ کارگر ثابت نہ ہوا۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر01:مرزا ظاہر دار بیگ کا حلیہ لکھیے۔

مرزا ظاہر دار بیگ کا چھوٹا قد،زرد رنگت،آنکھیں کرنجی اور دبلا ڈیل ڈول تھا۔وہ پاؤں میں ڈیڑھ ہاشیے کی جوتی اور سر پردوہری بیل کی بھاری کامدار ٹوپی پہنتے تھے۔ دو دو انگرکھے،گھٹنوں تک لٹکتا ریشمی ازار بند پہنتےاور اس میں قفل کی کنجیوں کا گچھا لٹکا ہوتا تھا۔

سوال نمبر02:کلیم کو جس مسجد میں ٹھہرایا گیا اس کی کیفیت لکھیے۔

کلیم کو جس مسجد میں ٹھہرایا گیا وہ نہایت پرانی اور چھوٹی سی مسجد تھی۔یہاں نہ کوئی طالب علم تھا،نہ حافظ،ملا اور مسافر۔ یہاں ہزاروں چمکادڑیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کانوں کے پردے پھٹے جا رہے تھے۔ یہاں کا تمام فرش بھی پھٹ چکا تھا۔

Advertisement

سوال نمبر03:ظاہر دار بیگ نے چنے کی تعریف میں کیا کہا؟

ظاہر دار نے کہا کہ چنوں کی عجب سوندھی خوشبو ہے۔ لوگ مٹی کا عطر کشید کرتے ہیں اس جانب کسی کا دھیان کیوں نہ گیا۔ چھدامی کی دوکان پر اتنا رش تھا۔ اس کے ہاتھوں میں فن ہے جو بھنے ہوئے چنوں کو سڈول بنا دیتا ہے۔چنوں کی دال ایسی بنی ہے کہ اس پر کوئی خراش تک نہیں ہے۔دانوں کی رنگت ایسی خوبصورت ہے کہ کوئی بسنتی اور کوئی پستئی ہے۔ زمین سے اگنے والے پھل اور اناج بھی چنے کی لذت کو نہیں پا سکتے۔

سوال نمبر04:کلیم جب صبح سو کر اٹھا تو اس نے خود کو کس حالت میں پایا؟

کلیم جب صبح سوکر اٹھا تو اس نے اپنے جوتے ، بستراور ٹوپی سمیت اپنا بہت سا سامان غائب پایا۔ جب کے فرش کی دھول اور چمکادڑوں کی غلاظت کی وجہ سے وہ خود کسی بھوت کی طرح بن گیا تھا۔

Advertisement

سوال نمبر05:اس قصے سے مرزا ظاہر دار بیگ کے کردار کی کونسی خصوصیات سامنے آتی ہیں؟لکھیے۔

اس قصے سے مرزا ظاہر دار بیگ کا کردار ایک شیخی بگھار کی طرح سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔جسے جھوٹی نمود و نمائش کا شوق ہے۔ وہ انتہائی مفلسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے کردار میں جھوٹ بولنے کا وصف ہے۔وہ دوستی کا حق ادا کرنے سے محروم ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement