چاشت کی نماز کی یہ ہوتی ہےکہ جب سورج اچھی طرح نکل جائے اور اس پر نگاہ نہ جم سکے تو اس وقت نوافل پڑھے جائیں جن کی کم سے کم تعداد دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہے۔ چاشت کے نوافل زوال کا وقت ہونے تک پڑھے جا سکتے ہیں۔

  • حضرت ابوذر سے روایت ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے جوڑ جوڑ پر صبح کو صدقہ ہے پھر فرمایا کہ *سبحان اللہ* کہنا بھی صدقہ ہے ، *الحمدللہ* کہنا بھی صدقہ ہے *لا الہ الا اللہ* کہنا بھی صدقہ ہے، *اللہ اکبر* کہنا بھی صدقہ ہے،برائی سے روک دینا بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی شخص چاشت کی دو رکعتیں پڑھ لے تو یہ دو رکعتیں جسم کے جوڑوں کی طرف سے بطور شکریہ کافی ہوں گی۔ (مسلم شریف)

انسان کے جسم میں 360 جوڑ ہیں اور روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا کتنا مشکل ہے؟ اسلیے اللہ پاک نے بندوں پر مہربانی فرما کر بلا محنت و مشقت کے کاموں کو صدقہ قرار دے دیا ہے۔

*سبحان اللہ، الحمد اللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر* اگر کوئی شخص 360 مرتبہ پڑھے تو جس دن اٹھے گا اس دن کا شکریہ جسم کے سب جوڑوں کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے سے بھی 360 جوڑوں کا شکریہ ادا ہوجاتا ہے۔اللہ اکبر! کیا شان ہے خدا کے فضل و انعام کی کہ اس نے انسانوں کے لیے اتنی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم پھر بھی خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔

  • اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے چاشت کے وقت بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل بنا دے گا۔(ترمذی)
  • اسی طرح چاشت کی نماز کی تعداد کے بارے میں حدیث وارد ہے کہ حضرت معاذہ رحمتہ اللہ علیہا کا بیان ہے (جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خاص شاگرد تھی) کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا 4 رکعتیں ادا فرماتے تھے اور اس میں اضافہ بھی اللہ کی مشیئت کے مطابق ہو جاتا تھا۔ (مشکوة شریف)
  • حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتی تھیں اور فرماتیں تھیں کہ اگر میرے ماں باپ بھی قبر سے اٹھ آئیں (اور ان کی خدمت میں لگنا پڑے) تب بھی ان کو نہ چھوڑو (کسی نہ کسی طرح وقت نکال کر پڑھتی ہی رہوں گی)۔ (موطا امام مالک)

عزیز ساتھیو! نفل دو طرح کی ہوتے ہیں۔ اول وہ نفل نماز جسکا کوئی خاص وقت مقرر نہیں،جب چاہو جتنی چاہو پڑھ لو۔بعض حضرات اکابر سے روزانہ کئی کئی سو رکعتیں پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اس لیے اگر کسی کے پاس وقت فارغ ہو تو نماز اسکے لئے بہترین مشغلہ ہے۔فرض اور سنت مؤکدہ کے علاوہ جس قدر ہو سکے نوافل کا اہتمام کریں لیکن یاد رہے کہ شوہر یا اولاد یا ماں باپ کے حقوق میں کوتاہی نہ کریں اور مرد ہو تو بیوی بچوں اور والدین کے حقوق نوافل کی مشغولیت میں تلف نہ کرے کیونکہ شریعت پر چلنا مقصود ہے نہ کہ اپنی طبیعت اور خواہش پر۔

اسی طرح دوسری قسم کے نوافل وہ ہیں جن کے خاص خاص اوقات مقرر ہیں اور ان کے خاص خاص فضائل بھی حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں نوافل میں چاشت کی نماز بھی ہے جس کا حدیث بالا میں ذکر ہے۔ اس نماز کی بڑی فضیلت ہے اس لئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ میرے ماں باپ بھی قبر سے اٹھ آئیں تب بھی اس نماز کو نہ چھوڑوں۔ درحقیقت جن کے دلوں میں نماز کی محبت ہے اور جن کو عبادت کا ذوق ہے وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔

  • چاشت کی نماز کا وقت نو بجے دن میں شروع ہوجاتا ہے اور زوال سے پہلے پہلے یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔اس نماز کی رکعتوں کی تعداد میں مختلف احادیث میں مختلف تعداد وارد ہوئی ہے دو، چار،آٹھ جتنی رکعتیں پڑھ سکے پڑھ لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چاشت کے وقت دو رکعت نماز نفل پڑھنے کی پابندی کرلی اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اگر چہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں۔ (ترمذی)

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم تمام کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Advertisements