دوستو نماز سب عبادتوں سے بڑی عبادت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں انسان اپنے رب کریم کے حضور میں اپنی ذات کو بالکل ذلیل و خوار کرکے پیش کر دیتا ہے اس لئے میں نماز کے اجر ثواب اور فضیلت کو کماحقہٗ تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔

دوستو! غور کیجئے کہ فجر کا وقت کتنی عظمت اور بابرکت والا ہےکہ خود اللہ تبارک و تعالی اہل دانش کو خطاب کرتے ہوئے فجر کی قسم کھا کر فرماتا ہے "وَالْفَجْرِ • وَلَيَالٍ عَشْرٍ • وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ • وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ • هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ الِّذِيْ حِجْرٍ•”
ترجمه۔قسم ہے فجر اور دس راتوں کی اور جنت اور طاق اور رات کی جب وہ چلنے لگے یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بڑی قسم ہے۔

عزیز ساتھیو! تمام لوگ سمجھ کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہوتے اور پھر جس چیز کی اللہ نے قسم کھائی ہے بھلا وہ اس کی عظمت کا اندازہ کس طرح کر سکتے ہیں جس میں عقلمندوں کو خاص کیا گیا ہے۔

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ’ اَلَّذِیْ حِجْرٍ’ سے عقلمند اور دیندار لوگ مراد ہیں۔ اس لیے عقل کا نام حجر رکھا گیا کیونکہ وہ انسان کو ہر اس قول وفعل سے روکتی ہے جو اس کے مناسب نہ ہو۔

فجر کی نماز مسلمان کو تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ یہ دنیا کی کامیابی کے ساتھ جہنم سے نجات کا پروانہ بھی ہے اس کے بارے میں فرمان رسول ﷺ ہے۔
*لن يلج النار احد صلى قبل طلوع وقبل غروبها*
ترجمه۔”طلوع فجر اور غروب شمس سے قبل ادا کرنے والا جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا” (مسلم)
اس سے معلوم ہوا فجر اور عصر کی نماز کی ادائیگی جہنم کی آگ سے نجات کا پروانہ ہے۔ یہ ہمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے اور ہمارے نبی کے فرمان سے بڑھ کر سچا اور راحت بخش فرمان کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔اسی طرح دوسری جگہ فجر اور عشاء کی فضیلت کا ذکر کرتے ہیں حضور نے ارشاد فرمایا *من صلی البردین دخل الجنة*

اس میں فجر کی نماز کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت انسان پر نیند کا غلبہ رہتا ہے اور ہوا کے خوشگوار جھونکے اسے تھپکیاں دےکر نیند کی وادیوں میں لے جاتے ہیں ادھر شیطان اپنے حربے آزماتا ہے لیکن اس کے باوجود بندۂ خدا اپنی نیند اور آرام کو چھوڑ کر بستر سے نماز کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسطرح شیطان کی تمام محنت اور جدوجہد برباد ہو جاتی ہے۔

دوسرا وقت عشاء کا ہے جس میں انسان دن بھر کی تھکن سے چور کھانا کھاتے ہی بستر پر دراز ہونا چاہتا ہے لیکن بندہ نفسانی خواہشات اور شیطان کے حربوں کے باوجود بارگاہ ایزدی میں نماز کے لئے حاضر ہو کر شیطان کے سبھی ارادوں کو چکنا چور کر کے مٹی میں ملا دیتا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دو اوقات کے عبادت گزار بندوں کو جنت کی بشارت دینا اس خدمت پر ہے کہ جو شخص فجر اور عشاء کی نمازوں کی ادائیگی کو اپنا معمول بنا لیتا ہے اس کے لیے باقی نمازوں کو ادا کرنا گراں نہیں ہوتا۔

اسی طرح عصر کی محافظت کی قرآن میں خوب تلقین کی گئی ہے ارشاد ربانی ہے۔
*حٰفِظُوْ عَلَى الصَّلَوٰاتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰي*
ترجمه۔”سب نمازوں کی حفاظت کیا کرو لیکن بالخصوص درمیانی نماز کی” اس کے علاوہ نماز ظہر کا الگ اجر و ثواب اور مرتبہ ہے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں گویا اس نے تہجد کی چار رکعتیں پڑھی۔

دوستو! میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ نماز کی فضیلت اور ثواب کو کماحقہٗ ادا کرنے سے قاصر ہوں لیکن پھر بھی آپ تمام کی خدمت میں چند احادیث پیش کرتا ہوں جس سے نمازوں کی کچھ فضیلت اور اجر ثواب کا علم ہوجائے گا۔

حضرت سلمان روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر پانچوں نمازیں پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے کسی سوکھے پیڑ کے پتے جھڑتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت *وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَ فَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ • اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ• ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِذَّاكِرِيْنَ* تلاوت فرمائی۔
ترجمه۔”اے محمدﷺ آپ دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز کی پابندی کیا کیجئے بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ باتیں مکمل نصیحت ہیں ان لوگوں کے لئے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں”

اس میں بعض علماء کے نزدیک دونوں کناروں سے مراد دو حصے ہیں پہلے حصے میں صبح کی نماز دوسرے میں ظہر اور عصر کی نماز مراد ہے رات کے کچھ حصوں میں نماز پڑھنے سے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنا مراد ہے۔ اس میں مغرب کی نماز بمنزلہ ہے عشاء کی نماز (شجر کی) جڑ کی مانند ہے جو تاریکی اور اندھیرے میں نشوونما پاتی ہے۔ صبح کی نماز زندگی کی کونپل کی مانند ہے جو زمین سے سر نکالتا ہے۔ ظہر کی نماز شاخوں کی طرح اور عصر کی نماز شجر عبادت کے ثمر کی مانند ہے۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں پانچوں نمازوں کی فضیلت اور ثواب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گناہ کرتے رہتے ہو اور جب صبح کی نماز پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے۔ پھر گناہ کرتے رہتے ہو اور جب نماز ظہر پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے۔ پھر گناہ کرتے رہتے ہو اور جب نماز عصر پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے۔ پھر گناہ کرتے ہو جب نماز مغرب پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے۔ پھر گناہ کرتے ہو جب نماز عشاء پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے پھر تم سو جاتے ہو اور بیدار ہونے تک تمہارا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

دوستو! آپ ہی بتائیے یہ تمام تر اللہ کی رحمت نہیں تو اور کیا ہے اور جب اس کی رحمت انسان کو ڈھانپ لیتی ہے تو رنج و غم راحت میں بدل جاتے ہیں کیونکہ جب اللہ کا لطف ہوتا ہے تو وہ آگ کو بھی ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیتا ہے اس کی حکمت کا غلبہ سب پر غالب ہے اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو دشمن کو دوست بنا دیتا ہے اور خون خوار شیر کو بھی مہربان کر دیتا ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم تمام نمازوں کی پابندی کریں کیوں کہ ہماری دونوں جہاں کی کامیابی کا دارومدار نماز پر ہی ہے۔ اس لیے آخر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہم تمام کو نمازوں کی حفاظت اور پابندی کرنے والا بنائے۔ آمین۔