عزیز ساتھیو! نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ نماز پڑھنے سے روزگار کی روزی میں برکت ہوتی ہے۔ نماز پڑھنے سے انسان ہر طرح کی برائی سے دور رہتا ہے جس کو مثال کے ذریعے واضح کرتی چلوں۔ آپ فرض کیجئے کہ ایک انسان سرمایہ دار اور دولت مند ہے اس نے سوچا کہ وہ بڑے سے بڑے سینما ہال میں جاکر جس میںA.C ہو، جاکر مووی دیکھے وہ مووی دیکھنے کے لیے گیا لیکن جب وہ تین گھنٹے کے بعد دیکھ کر واپس آتا ہے تو اس کے چہرے پر تھکان کے آثار ہوتے ہیں، اس کی طبیعت میں آپ کو تازگی نظر نہیں آئے گی اس کے چہرے پر سیاہی ہوگی۔ لیکن اس کے برخلاف ایک ایسا شخص ہے کہ جب نماز کا وقت ہوا اور وہ شخص ایسے گاؤں کے اندر ہے جہاں ایک مسجد نظر آئی جس کی چھت ٹین کی بنی ہوئی ہے، اندر پنکھا بھی نہیں ہے اور ظہر کی نماز کا وقت تھا اور دوپہر کی تپش بھی اس کے باوجود اس نے سوچا کہ میں نماز پڑھوں اور وہ شخص بیس منٹ ظہر کی نماز پڑھنے میں لگاتا ہے اور بیس منٹ ظہر کی نماز پڑھ کر جب وہ نکلتا ہے تو خدا کی قسم اس کے چہرے سے نور چھلک رہا ہوتا ہے اور اس بندے کی طبیعت میں تازگی اور سکون ہوتا ہے۔ وجہ سب سے بڑی یہ ہے کہ جو سکون دینے والا رب ہے اس سکون دینے والے رب کی بارگاہ میں اس نے سر جھکا دیا اس لئے میرے رب نے اسے سکون کی دولت عطا فرما دی۔

اسی طرح عام دنوں میں انسان بھوکا رہے تو چہرے کا رنگ اتر جاتا ہے لیکن روزے میں بھوکا رہے تو چہرہ معصوم سا بن جاتا ہے۔ دوستو یہ میرے رب کی عبادت کی کرشمات ہیں جن کو ہم انسان سمجھ کر بھی نہ سمجھ بن جاتے ہیں۔

میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن میں رب ذوالجلال نے فرمایا کہ صرف خود ہی نماز کے پابند مت بنو بلکہ "وَأْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ” کے تحت اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا حکم دو۔

عزیز ساتھیو نماز کی کتنی برکت ہے یہ بات اس تحریر کردہ واقعہ سے بھی واضح ہو جائے گی۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ایک امیر آدمی کے مکان پر ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے نقب زنی کی۔ اتفاقاً صاحب خانہ کی آنکھ کھل گئی تو اس نے شور مچانا شروع کر دیا، اہلِ محلہ جاگ پڑے ڈاکوؤں نے راہ فرار اختیار کی اہل محلہ نے ان کا پیچھا کیا ڈاکو بھاگ رہے تھے اور لوگ ان کے پیچھے آرہے تھے۔ اچانک راستے میں ڈاکو کو ایک مسجد نظر آئی انہیں کچھ اور تو نہ سوجھا فوراً مسجد میں داخل ہوگئے اور نمازیوں جیسی صورت بنا کر بیٹھ گئے۔ کوئی قیام کی حالت میں کھڑا ہوگیا کوئی رکوع میں اور کوئی سجدے کے اندر مصروف ہوگیا لوگ بھی انہیں تلاش کرتے ہوئے مسجد تک آئے لیکن جب دیکھا کہ چند لوگ نماز میں مصروف ہیں ان کے علاوہ مسجد میں کوئی نہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ چور تو کہیں نکل گئے ہیں۔

چنانچہ وہ لوگ واپس تشریف لے گئے اس کے بعد چوروں کا بڑا سردار اور سرغنہ کہنے لگا کہ اے میرے ہم نشینوں اگر آج ہم نماز کی صورت بنا کر نہ بیٹھتے تو ضرور پکڑے جاتے اور ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ہوتی۔ صرف نماز صورت اختیار کرنے کی برکت ہے کہ ہم نجات پا گئے ہیں اگر فی الواقع ہم نماز کو درست طور پر اپنا لیں تو دوزخ کی مصیبت سے بھی اللہ رب العزت ہمیں بچا لے گا۔ اس لیے اے میرے ہمنشینوں میں آج سے توبہ کرتا ہوں اور اپنی گناہوں والے زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں اور اللہ کا نیک بندہ بننا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی سردار کے ہمنشین کہنے لگے کہ جب آپ توبہ کر گئے تو پھر ہم بھی آپ کے قول پر لبیک کہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے دل سے توبہ کرلی اور اس کے بعد ان سب لوگوں کا شمار متقی اور پرہیزگار لوگوں میں ہونے لگا۔

عزیز ساتھیو اس بات سے نماز کی برکت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے گنہگار بندوں کو ہدایت کے راستے پر کب کھڑا کرے یہ کوئی نہیں جانتا اس لیے ہمیں گنہگار بندوں سے نفرت نہیں کرنی چاہیے اور کیوں نفرت کریں جب وہ رب کائنات جو دونوں جہاں کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے اور اپنے خطا کار بندوں کو بھی معافی مانگنے پر رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے تو پھر ہم تو اس خدا کے حقیر سے بندے ہیں۔

اسلئے ہم ان کی برائی سے نفرت کریں اور اللہ سے اپنے اور ان گنہگاروں کے لئے ان گناہوں سے اجتناب کرنے کی دعا کریں۔ کیا ہم اس کے بندے ہونے کا اتنا بھی فرض ادا نہیں کرسکتے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کی خطا کو درگزر کر سکیں؟ اس لئے ہم تمام کو ایک دوسرے کی خطا کو درگزر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم جان بوجھ کر ایک وقت کی بھی نماز ترک نہ کریں کیوں کہ اگر ہم نماز کی پابندی کریں گے تو اللہ اس کی برکت سے دونوں جہاں میں کامیابی عطا کرے گا۔ آمین۔

Advertisements