• کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر07:کہانی
  • مصنف کا نام: رسکن بونڈ
  • سبق کا نام:دادی کا شاندار باورچی خانہ

تعارف مصنف:

1944 رسکن بونڈ ہندستان میں برطانوی حکومت کے آخری دور میں پیدا ہوۓ۔ ان کے والد کا انتقال 19 میں ہو چکا تھا۔ رسکن بونڈ کا بچپن بڑی حد تک تنہائی کے ماحول میں گزرا۔ لیکن انھوں نے اس ملک کو ہمیشہ کے لیے اپنا وطن بنا لیا تھا۔

ان کی اسکول کی تعلیم شملہ میں پوری ہوئی۔ اپنی جوانی کی عمر میں کچھ عرصے کے لیے وہ اپنے بزرگوں کے وطن انگلستان میں بھی رہے ،لیکن پھر ہندستان واپس آ گئے ۔ اب رسکن بونڈ نے دہرہ دون کے قریب مشہور پہاڑی مقام مسوری کو اپنا گھر بنالیا ہے اور وہیں رہتے ہیں ۔ ہندستان کے انگریز ادیبوں میں رسکن بونڈ کے مداحوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ ان میں بچے بڑے بھی شامل ہیں۔

Advertisement

بچوں کے ادب کی ترقی میں ان کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ان کی کتابوں میں "دہلی از ناٹ فار”۔ ،”دا روم آن دا روف” ،” ویگرنٹ ان دا ویلی” مشہور ہیں۔ ان کی کہانیوں پر کچھ فلمیں بھی بن چکی ہیں۔

خلاصہ سبق:

اس سبق میں "رسکن بونڈ” نے اپنے بچپن کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دادی کے باورچی خانے کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ دادی کا باورچی خانہ سونے کے کمرے یا ڈرائنگ روم جیسا بڑا ہر گز نہ تھا۔اس کے ساتھ ایک کوٹھری ملحق تھی۔ مگر اس کی اصل بڑائی ان چیزوں کی وجہ سے تھی جو اس کے اندر سے پک کر آتی تھیں۔

دادی انواع و اقسام کی چیزیں جیسے کہ مونگ پھلی کی ٹافیاں،چاکلیٹ کی قندی،گلاب جامن،بھرے مرغے اور انڈے رانیں وغیرہ بناتی تھیں۔ سارے شہر میں ان جیسا باورچی خانہ نہ تھا۔ان کا تعلق دہرہ دون سے تھا۔ ان شہر میں دادی کا بںگلہ نما گھر تھا جہاں آم ،لیچی، کیکے ،پپیتے،امرود،لیموں وغیرہ کے درخت تھے۔

دادی کے الفاظ کے مطابق اس گھر کی دیواروں پر پرانے پیڑ کا نرم سایہ پڑتا تھا اور یہ خوش نصیب گھر تھا۔ پوری دنیا میں دادی جیسا کھانا پکانے والا کوئی باورچی نہ تھا۔میں اپنی چھٹیوں کا کم سے کم ایک ماہ دہرہ دون اپنی دادی کے پاس گزارتا تھا۔جبکہ باقی کی چھٹیاں گزارنے اپنے والدین کے پاس آسام چلا جاتا تھا۔وہاں چائے کے باغات ضرور تھے مگر دادی جیسا شاندار کھانا وہاں نہ ملتا تھا۔

دادی بھی اکیلی نہیں رہتی تھیں بلکہ ان کے ساتھ ایک مالن کرنتا،ایک لڑکا موہن اور ایک بلی اور کتا بھی رہتے تھے۔دادی کے کتے کا نام "کریزی” اور بلی کا نام "سوزی” تھا۔کریزی دن بھر پاکلوں کی طرح چکر لگاتا رہتا تھا۔اس کے علاوہ کین انکل بھی تھے۔کین انکل دادی کے بھتیجے تھے۔ان کی جب بھی ملازمت چھوٹ جاتی تو اکثر دادی کے پاس رہنے چلے آتے۔

دادی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوتیں اور مزے مزے کے کھانے بناتیں۔ویسے تو سب ان کے کھانے کی تعریفیں کرتے لیکن وہ مجھے کھلا کر بہت خوش ہوتیں۔ مجھ سے پوچھتیں کہ میٹھا کیسا ہے ؟ زیادہ تو نہیں وغیرہ اور میرے تاثرات لکھ لیتی تھیں۔ایک اچھے باورچی کی طرح وہ دوسروں کو کھلا کر ہمیشہ خوش ہوتیں۔دادی کی پسندیدہ ڈش بھنی ہوئی بطخ تھی۔

ایک دفعہ انھوں نے وہ ڈش بنائی تو انکل کین منھ چڑھانے لگے کہ پھر سے بطخ بنا دی مگر انھوں نے ساری بطخ اور اس کے اندر بھرا مصالحہ اپنی پلیٹ میں نکال لیا میرے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ جبکہ انھیں معلوم بھی تھا کہ مجھے اس کے اندر کا مصالحہ کس قدر پسند ہے۔انکل کین سیب کی چٹنی کے دیوانے تھے۔ انھیں چڑھانے کے لیے میں نے بھی تمام چٹنی اپنی پلیٹ میں انڈیل لی۔

انکل کین کو بچے پسند نہ تھے وہ تھوڑے سنکی تھے۔کوئی بھی ملازمت چھوڑ کر آ جاتے تھے۔کین انکل چونکہ بہت سست واقع ہوئے تھے مگر ایک دفعہ ان پر شہد کی مکھیوں نے دھاوا بول دیا۔ جس کی وجہ سے کین انکل بہت تیز دوڑے۔ان مکھیوں کے ذریعے قدرت نے کین انکل کو سبق سکھایا وہ تیز دوڑے اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ دوڑ بھی سکتے ہیں۔اس کی وجہ سے کین انکل تین دن تک بستر میں رہے وہیں ان کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔

سوچیے اور بتایئے:

دادی کا باورچی خانہ کیسا تھا؟

دادی کا باورچی خانہ سونے کے کمرے یا ڈرائنگ روم جیسا بڑا ہر گز نہ تھا۔اس کے ساتھ ایک کوٹھری ملحق تھی۔ مگر اس کی اصل بڑائی ان چیزوں کی وجہ سے تھی جو اس کے اندر سے پک کر آتی تھیں۔

مصنف اپنی چھٹیاں گذار نے کہاں چلا جا تا تھا؟

مصنف اپنی چھٹیوں کا کم سے کم ایک ماہ دہرہ دون اپنی دادی کے پاس گزارتا تھا۔جبکہ باقی کی چھٹیاں گزارنے اپنے والدین کے پاس آسام چلا جاتا تھا۔

دادی کے کتے اور بلی کا کیا نام تھا؟

دادی کے کتے کا نام "کریزی” اور بلی کا نام "سوزی” تھا۔

دادی کی پسندیدہ ڈش کونسی تھی؟

دادی کی پسندیدہ ڈش بھنی ہوئی بطخ تھی۔

کین انکل کون تھے اور وہ کس چیز کے دیوانے تھے؟

کین انکل دادی کے بھتیجے تھے۔ان کی جب بھی ملازمت چھوٹ جاتی تو اکثر دادی کے پاس رہنے چلے آتے۔ انکل کین سیب کی چٹنی کے دیوانے تھے۔

قدرت نے کین انکل کو کس طرح سبق سکھایا ؟

کین انکل چونکہ بہت سست واقع ہوئے تھے مگر ایک دفعہ ان پر شہد کی مکھیوں نے دھاوا بول دیا۔ جس کی وجہ سے کین انکل بہت تیز دوڑے۔ان مکھیوں کے ذریعے قدرت نے کین انکل کو سبق سکھایا وہ تیز دوڑے اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ دوڑ بھی سکتے ہیں۔