• کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر01:کہانی
  • مصنف کا نام: جوناتھن سوئفٹ
  • سبق کا نام: للی پٹ کا سفر

تعارف مصنف:

جونا تھن سوئفٹ 1667ء میں آئر لینڈ میں پیدا ہوئے۔ 1745ء میں ان کا انتقال ہوا۔جوناتھن سوئفٹ کا شمار انگریزی کے مشہور طنز نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کا وطن آئر لینڈ تھا۔ ان کی تحریروں میں آئرش عوام کے دکھ درد کا بیان نہایت خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ انتقال سے پہلے سوئفٹ ایک شدید دماغی مرض کے شکار ہو گئے تھے۔یہ سبق سوئفٹ کی مشہور کتاب "گلیروی ٹریول” سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کے کچھ حصوں کا ترجمہ احمد خاں خلیل نے گلی ور کے تین حیرت انگیز سفر“ کے نام سے کیا ہے۔ یہ سبق اس ترجمےسے ماخوذ ہے۔ سوئفٹ نے اپنی یہ کتاب 1726 میں لکھی تھی۔ اس میں انھوں نے اپنے زمانے میں انسانیت کے زوال اور عام سماجی صورت حال پر گہرا طنز کیا ہے اور اس کے لیے دلکش تخیلاتی فضا کا سہارا لیا ہے۔

خلاصہ سبق:

اس سبق "للی پٹ کا سفر” میں ایک دلچسپ تخیلاتی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔یہ کہانی ایک نوجوان جس کا نام گلی ور تھا کی ہے۔گلی ور شمالی انگلستان کے ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے والدین غریب تھے۔ تھوڑی سی زمین تھی جس سے سارے کنبے کی گزر بسر ہوتی تھی۔ گلی ور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس نے اپنی تعلیم چھوڑ کر ایک بحری جہاز پر "اینٹی لوپ” کی نوکری کر لی۔

Advertisement

مئی 1700ء میں یہ جہاز بحر جنوبی کی طرف روانہ ہوا۔اس کی منزل جزائر شرق الہند تھے۔ مگر اس جہاز کوسمندر میں ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے ان کے جہاز کو بے قابو کرتے ہوئے دکھیل کر تسنانیہ پہنچا دیا۔اس طوفان میں کوئی ساحلی کنارہ نظر نہ آنے اور خراب غذا،سخت محنت کی وجہ سے بارہ آدمی مر گئے۔ اسی طوفان کی وجہ سے موسلا دھار بارش کے باعث ان کا جہاز چٹان سے ٹکڑا جا نے کے باعث اس کے پیندے میں سوراخ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے کشتی لے کر سمندر میں اترنا پڑا۔ نجانے گلی ور کے باقی ساتھیوں کے ساتھ کیا ہوا۔

مگر گلی ور کسی طرح ایک زمین کے ٹکڑے تک پہنچ گیا۔خشک زمین پر پہنچتے تھکن کے باعث گلی ور سو گیا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو بندھا ہوا محسوس کیا۔ وہاں اس کی ملاقات ننھے سپاہیوں سے ہوئی۔ یہ آدمی قریباً کل پندرہ سینٹی میٹر لمبے تھے۔ننھے سپاہیوں نے پہلے تو سوئے ہوئے گلی ور کو پتلی رسیوں سے جکڑ کر باندھ دیا۔ پھر وہ اس کے جسم پر تیر برسانے اور ہکینا دو گل کے نعرے لگانے لگے۔

مگر جب گلی ور نے جوابی کارروائی نہ کی تو ان کے رویے میں تبدیلی آئی انھوں نے گلی ور کے لیے ایک میز بنایا۔ان میں موجود ایک سرخ کوٹ والے آدمی نے گلی ور کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔اس لمبے آدمی کی تقریر کا گلی ور کو مطلب سمجھ آیا کہ اگر تم ہمارے حکم کی تعمیل کرو گے تو ہم تمھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے اور اگر بھاگنے کی کوشش کی تو ہم تمھیں مار ڈالیں گے۔ گلی ور نے آنکھیں آسمان کی طرف کر کے اور ہاتھ اٹھا کر کہا کہ وہ ان کی بات سمجھ گیا ہے۔

یوں اس میز پر اسے کھانا پیش کیا گیا۔ تمام کھانے میں کوئی چیز چڑیا کے سائز سے بڑی نہ تھی۔کھانے کے بعد انھوں نے گلی ور کے بدن پر چڑھ کر محفل رقص منعقد کی اور اونچی آواز میں "ہیکنادوگل”کے نعرے لگائے۔

سوچیے اور بتایئے:

گلی ور کون تھا اور وہ کیا کرتا تھا؟

گلی ور شمالی انگلستان کے ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے والدین غریب تھے۔ تھوڑی سی زمین تھی جس سے سارے کنبے کی گزر بسر ہوتی تھی۔ گلی ور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس نے اپنی تعلیم چھوڑ کر ایک بحری جہاز پر "اینٹی لوپ” کی نوکری کر لی۔

گلی ور کوسمندری جہاز میں کیا دقتیں پیش آئیں؟

گلی ور کو سمندر میں ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے ان کے جہاز کو بے قابو کرتے ہوئے دکھیل کر تسنانیہ پہنچا دیا۔اس طوفان میں کوئی ساحلی کنارہ نظر نہ آنے اور خراب غذا،سخت محنت کی وجہ سے بارہ آدمی مر گئے۔ اسی طوفان کی وجہ سے موسلا دھار بارش کے باعث ان کا جہاز چٹان سے ٹکڑا جا نے کے باعث اس کے پیندے میں سوراخ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے کشتی لے کر سمندر میں اترنا پڑا۔

خشک زمین پر گلی ور کوکون لوگ ملے اور اس نے کیا محسوس کیا؟

خشک زمین پر پہنچتے تھکن کے باعث گلی ور سو گیا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو بندھا ہوا محسوس کیا۔ وہاں اس کی ملاقات ننھے سپاہیوں سے ہوئی۔ یہ آدمی قریباً کل پندرہ سینٹی میٹر لمبے تھے۔

ننھے سپاہیوں نے گلی ور کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

ننھے سپاہیوں نے پہلے تو سوئے ہوئے گلی ور کو پتلی رسیوں سے جکڑ کر باندھ دیا۔ پھر وہ اس کے جسم پر تیر برسانے اور ہکینا دو گل کے نعرے لگانے لگے۔ مگر جب گلی ور نے جوابی کارروائی نہ کی تو ان کے رویے میں تبدیلی آئی انھوں نے گلی ور کے لیے ایک میز بنایا اور اس پر اسے کھانا پیش کیا۔

لمبے کوٹ والے آدمی کی تقریر کا گلی ور نے کیا مطلب سمجھا؟

لمبے آدمی کی تقریر کا گلی ور کو مطلب سمجھ آیا کہ اگر تم ہمارے حکم کی تعمیل کرو گے تو ہم تمھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے اور اگر بھاگنے کی کوشش کی تو ہم تمھیں مار ڈالیں گے۔

گلی ور کے بدن پر ننھے سپاہیوں نے کیا کیا؟

گلی ور کے بدن کو ننھے سپاہیوں نے پتلی ڈوریوں سے باندھ دیا۔اس کے بدن پر چڑھ کر انھوں نے نہ صرف تیر برسائے بلکہ بھگدڑ بھی مچانے لگے۔