Advertisement
ہم بنائیں گے یہاں ساغر نئی تصویر شوق,
ہم تخیل کے مجدد، ہم تصور کے امام۔

شاعر ہو یا کوئی نثار، اس کی شاعری اور نثر میں تخیل لازمی طور پر مضمرہوتا ہے۔تخیل کوئی اکتسابی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو  منتخب لوگوں کو عطاء کیا جاتا ہے۔ تخیل شاعری کی جان اور نثر کی روح ہوتا ہے۔ اقبال کی شاعری اور نثر دونوں اوج تخیل کی عمدہ مثالیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ تخیل، جذبے اور خیال کو مقدم رکھا ہے اور اسی بنیاد پر وہ تخیل کے مجدد ہیں اور تصور کے امام بھی۔ 1932ء میں پہلی دفعہ شائع ہونے والی اقبال کی جاوید نامہ مثنوی جو کہ 2000 اشعار پر مشتمل ہے، علامہ اقبال کا افلاک کا خیالی سفر نامہ ہے، جس میں ان کے راہبر و مرشد مولانا رومی انہیں مختلف سیاروں اور افلاک کی سیر کرواتے ہیں۔ دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں یہی سفر اقبال سے پہلے طے کیا اور ان کے ساتھ "ورجل” افلاک پر ان کے ہم سفر تھے۔ جب جاوید نامہ منظر عام پر آئی تو بہت سوں نے اعتراض کیا کہ یہ اطالوی شاعر دانتے کی کتاب "ڈیوائن کامیڈی” کی نقل ہے۔ جبکہ یہ اعتراض محض خام خیالی ہے۔

Advertisement

        اقبال نے جاوید نامہ دانتے کی تقلید کرتے ہوئے تخلیق نہیں کی البتہ وہ ڈیوائن کامیڈی سے متاثر ضرور تھے۔ جاوید نامہ میں اقبال گھر بیٹھے بٹھائے خیال و تصور میں افلاک کی سیر کر آئے اور مختلف افلاک پر مختلف لوگوں کی روحوں سے ملاقات بھی کر لی۔ جاوید نامہ میں اقبال نے درج ذیل کرداروں سے ہماری ملاقات کروائی ہے!

Advertisement

        1۔ ابلیس،         2۔ابوجہل،         3۔ اقبال،         4۔ اہرمن،         5۔ بھرتری ہری،

Advertisement

        6۔ ٹالسٹائی،         7۔ ٹیپو سلطان،        8۔ جمال الدین افغانی،         9۔ رومی،                 10۔ وشوامتر،

        11۔ زرطشت،     12۔ شرف النساء بیگم،         13۔ غالب،         14۔ غنی کاشمیری،             15۔ فرعون،

Advertisement

        16۔ گوتم بدھ،   17۔ لارڈ کچنر،         18۔ منصور حِلاج،                 19۔ میر جعفر،    20۔ میر صادق،

        21۔ نادر شاہ (جنرل)،      22۔ نادرشاہ درانی،                 23۔ ناصر خسرو،                 24۔ نٹشے۔

Advertisement

        اقبال اور رومی صاحب جب آسمانوں کی سیر پر نکلتے ہیں تو سب سے پہلے "فلک قمر” پر پہنچتے ہیں۔ فلک قمر پر ان کی ملاقات وشوامتر سے ہوتی ہے۔ وشوامتر کے ساتھ ان کا مکالمہ ملاحظہ فرمائیں، کس خوبصورتی کے ساتھ اقبال فلسفیانہ انداز میں وشوامتر کے سوالات کے جواب دیتے ہیں!

        سوال: عقل کی موت کیاہے؟

Advertisement

        جواب: ترک فکر عقل کی موت ہے۔

        سوال: دل کی موت کیا ہے؟

Advertisement

        جواب: فرمایا! اللہ تعالیٰ کا ذکر چھوڑنا دل کی موت ہے۔

        سوال: روح کیا ہے؟

Advertisement

        جواب:فرمایا!   لا الٰہ کی رمز روح ہے۔

        سوال: آدم کیا ہے؟

Advertisement

        جواب: فرمایا!  اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے اک راز۔

        سوال: عالم کیا ہے؟

Advertisement

        جواب: فرمایا!  اللہ تعالیٰ کا سامنے ہونا یعنی اللہ سامنے ہے۔

Advertisement

        سوال: آخری دلیل کیا ہے؟

        جواب: فرمایا!  محبوب کا چہرہ۔

Advertisement

        سوال: عام لوگوں کا مذہب کیا ہے؟

Advertisement

        جواب: فرمایا! سنی سنائی پر بھروسے کا نام۔

Advertisement

        سوال: عارفین کا دین کیا ہے؟

        جواب؛ فرمایا!  دیکھنا۔

Advertisement

اس کے بعد اقبال نے وادی طواسین کا رخ کیا جہاں پر علامہ نے گوتم بدھ، زرطشت، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضورؐ کی تعلیمات بیان کی ہیں۔ پھر علامہ اور رومی فلک عطارد پر پہنچتے ہیں جہاں انہوں نے سید جمال الدین افغانی اور سید علیم پاشا کی ارواح سے ملاقات کی اور دونوں مصلحان سے علامہ اہم اسلامی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے بعد فلک مریخ پر ایک نام نہاد پیغمبر عورت کو دیکھتے ہیں جسے بچپن میں شیطان اغواء کر کے لے گیا تھا۔ وہ عورتوں کو ترقی اور آزادی کے نئے اصول بتاتی ہے اور اس کا پیغام یہ ہے کہ آخر کار عورت ہی کی حکمرانی قائم ہونی ہے، اس عورت کی باتوں پر مولانا روم تہذیب حاضر کے بعض پہلوؤںکو ہدف تنقید بناتے ہیں۔

پھر وہ ایک فلک پر ابن حلاج، غالب اور قراۃ العین کی روحوں سے ملتے ہیں۔ مرزا غالب سے ادبی اور مذہبی گفتگو ہوتی ہے۔ اس کے بعد اقبال اور رومی اس فلک پر جاتے ہیں جس کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور وہاں پر وہ روحیں ملتی ہیں کہ جن کو دوزخ نے بھی قبول نہیں کیا، دراصل وہ روحیں میر جعفر اور میر صادق کی ہیں۔ اس سے اگلے فلک پر اقبال فرعون کی روح سے ملتے ہیں۔ پھر اقبال اور رومی مختلف سیاروں میں سے گزرتے  ہوئے جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، وہاں پر وہ اولیاء اور اچھے بادشاہوں سے ملتے ہیں، جن میں نادر شاہ، احمد شاہ ابدالی اور ٹیپو سلطان شامل  ہیں۔ پھر ایک مقام پر مولانا رومی اقبال کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ جہاں اقبال خدا کے صفت و جمال و تجلی سے بعض سوالات پوچھتا ہے۔

Advertisement

جاوید نامہ ہر جہت سے ایک کامیاب شاہکار ہے۔ مشرقی شاعری کا نقطہ کمال ہے، اپنے مضامین کی وسعت، موضوعات کے تنوع، کرداروں کی رنگا رنگی، مناظر کی دلکشی، اشعار کی سحر انگیزی، تصورات کی آفاقیت اور مقاصد کی رفعت کے لحاظ سے دنیا کی کوئی شعری تخلیق اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

تحریرامتیازاحمد
"جاوید نامہ" افلاکی سفر نامہ 1

Advertisement
Advertisement

Advertisement