ارکانِ اسلام مفہوم، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر 09:

سوال۱: ارکانِ اسلام سے کیا مراد ہے؟

جواب: ارکان اسلام کے بارے میں ہمارے سامنے رسول اکرمﷺ کی ایک حدیث ہے جس میں حضورﷺ نے اسلام کے ارکان کی ترتیب اور توضیح ارشاد فرمائی ہے۔ یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی۔“

اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد رسول اللہﷺ اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔
نماز قائم کرنا۔
رمضان کے روزے رکھنا۔
زکوۃ ادا کرنا۔
حج ادا کرنا۔

اس حدیث سے علماء کرام نے دین، اسلام کے پانچ ارکان متعین کئے۔ رسولﷺ نے بطور تمثیل عمارت اسلام کے یہ پانچ ستون قرار دیئے ہیں۔ جس طرح کوئی عمارت مخدوش اور نامکمل رہتی ہے اسی طرح اب تک ان پانچوں ارکان اسلام پر پوری طرح عمل نہ کیا جائے اسلام کے دعویٰ کی تکمیل نہیں ہوتی۔

سوال۳:ارکانِ اسلام میں سب سے اہم کیا ہے؟

جواب:اسلام کا سب سے پہلا رکن ”کلمہ شہادت“ہے جس کا مفہوم یہ کہ کفر سے اسلام کی طرف آنے والے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے والا سب سے پہلے ان الفاظ میں عہد کرتا ہے کہ:
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“

اس کلمہ شہادت میں دو باتوں کا اقرار کرنا پڑتا ہے ایک اللہ کی توحید و یکتائی کا اور اس یقین کا اظہار کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہے۔ دوسرا حصہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولﷺ پر یہ یقین اور اعتماد کہ وہ اللہ کے احکام ہم تک صحیح اور محفوظ طریقے پر پہنچانے والے ہیں اور ان کا فرمانا یا عمل اللہ کی ہدایت اور حکم پر مبنی ہے اس لئے اس عہد اور اس کی گواہی کے ذریعے اس کا اعلان کہ اب ہم اللہ کے احکام اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کی تعمیل میں اسی طرح کی پس و پیش اور حیل و حجت نہ کریں گے اور اپنی عقل اور مصلحت کو اس میں دخل نہ دینے دیں گے۔

سوال۴: کلمہ شہادت کا مفہوم کیا ہے؟

جواب:کلہ شہادت کا پہلا حصہ یعنی اشھد ان لاالہ الا اللہ عقیدہ توحید ہی کا اعلان واعتراف ہے۔ کلمہ شہادت کا دوسرا حصہ یعنی اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ اس امر کا اعلان ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور سچے رسول ہیں اور آپﷺ کا پیش کردہ دین ہی دین حق ہے۔ ان دونوں باتوں کی گواہی دیئے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ گوبظاہر توحید و رسالت دوہیں، لیکن دراصل دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ نہ اللہ تعالیٰ کو مانے بغیر کوئی شخص رسولﷺ کو مان سکتا ہے اور نہ رسولﷺ کو تسلیم کیے بغیر اللہ تعالیٰ کو پہچان سکتا ہے۔(چونکہ رسول ﷺ پر ایمان لانے کےمفہوم میں آپﷺ کی بتائیہوئی تعلیمات کو تسلیم کرنا شامل ہے) جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اللہ و رسول کی اس طرح اطاعت کی جائے کہ دل کی تمام خواہشات شریعت اسلامی کے تابع ہو جائیں۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمائیں:
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے دل کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔

سوال۵:انسانی عظمت کے ضامن عقیدے کو واضح کریں؟

جواب:اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنے قول و عمل سے توحید و رسالت کی گواہی دی اور اپنے تمام انفرادی و اجتماعی معاملات میں شریعت اسلامی کی کماحقہ پیروی کا اہتمام کیا تو وہ انسانی عظمت کی بلندیوں پر جا پہنچے۔ لیکن جب یہ گواہی دلی تصدیق اور عملی اطاعت سےمحروم ہو کر وہ گئی تو ہماری عزت و عظمت خاک میں مل گئی۔