Advertisement

انشائیہ مرحوم کی یاد میں کا خلاصہ:

”مرحوم کی یاد میں“ پطرس بخاری کا ایک مزاحیہ مضمون ہے اور اس کے پس پردہ طنز کا عنصر موجود ہے۔ پطرسں لکھتے ہیں کہ میں اور مرزا صاحب ایک دن برآمدے میں بیٹھے تھے دونوں اپنے اپنے خیالوں میں محو تھے۔ مرزا خدا جانے کیا سوچ رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پرغورکر رہا تھا۔ اس دوران میں نے ایک موٹر کار خریدنے کا اظہار کیا۔ مرزا صاحب کہنے لگے اس کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسلئے میری ایک تجویز ہے کہ آپ میرا بائسیکل لے لو جو میں آپ کو مفت میں دوں گا لیکن میں نے مفت لینے سے انکار کیا۔ آخر چالیس روپے مٹھی میں بند کر کے مرزا کے جیب میں ڈال دیے اور مرزا کو صبح تک سائیکل لازمی روانہ کرنے کا کہہ آیا تھا۔

رات کو بستر پر بائیسکل پر سیر کرنے کے لئے بہت کچھ سوچتا رہا اور کشمیر کی سیر کرنے کا خیال کر رہا تھا۔ صبح سویرے نوکر نے سائیکل آنے کی اطلاع دی۔میں خوشی خوشی اسے دیکھنے کے لئے آیا تو یہ ہی نہ سمجھ پایا کہ یہ ہے کیا۔نوکر کے بتانے پر معلوم ہوا کہ یہ وہی سائیکل ہے جو مرزا صاحب نے بھجوا ئی ہے۔نوکر کو اس کی صفائی اور اس کے پرزوں کو تیل دینے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ صفائی کے بعد بھی یہ میلا لگتا ہے اور اس کے تیل دینے کے تمام سوراخ بند ہیں۔

Advertisement

آخر کار بائسیکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو۔زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی جس سے وہ تن جاتی اور چڑ چڑ بولنے لگتی۔ پھر ڈھیلی ہو جاتی۔

پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا، دوسرا دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑتا جاتا تھا، اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کے گزر گیا ہو۔ سائیکل میں سے طرح طرح کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیونکہ جو سائیکل مرزا نے مجھے دیا تھا وہ بہت پرانا تھا۔ اسلئے میرے لئے تکلیف دہ ثابت ہوا۔

Advertisement

آس پاس کے جتنے بھی لوگ تھے وہ سراٹها کر میری طرف دیکھتے تھے جب سائیکل ، اترائی پر ذرا تیز ہوا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فضا میں بھونچال سا آ گیا ہو۔ مکینک کو دکھایا بے سود بیچنے کی کوشش کی تو الٹا اپنا مزاخ بنوایا۔ آخر جب اس سائیکل نے سب کے سامنے بیچ سڑک کے پٹخ ڈالا تو لوگوں کی ریمارکس کی پروا نہ کرتے ہوئے بائسیکل کو دریا میں ڈال دیا اس کے بعد مرزا کے گھر جا کر وہ سارے اوزار مرزا کو واپس کیے جو وہ مجھے مفت عنایت کر چکے تھے اور گھر جا کرعلم کیمیا کی کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔

سوالات:

سوال نمبر 1: اس سبق میں مرحوم کسے کہا گیا ہے؟

اس سبق میں مرحوم سائیکل کو کہا گیا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 2: موٹر کو دیکھ کر مصنف کوکیا خیال آیا اور وہ کیا سوچنے لگا؟

موٹر کو دیکھ کر مصنف کو زمانے کی ناسازگاری کا خیال ستانے لگتا ہے اور وہ کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتے ہیں کہ جس سے تمام لوگوں میں دولت برابر تقسیم کی جا سکے۔

Advertisement

سوال نمبر 3: مصنف نے سائیکل کو دریا میں کیوں پھینک دیا؟

سائیکل کی وجہ سے مصنف کو بہت شرمندگی کا سامنا ہوا۔ سائیکل نےسرکس کے سائیکل کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ کیونکہ اس کے پہیے الگ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے مصنف زمین پر گر پڑا اسی وجہ سے مصنف نے سائیکل کو دریا میں پھینک دیا۔

سوال نمبر 4: گھر پہنچ کر مصنف نے کس کتاب کا مطالعہ کیا اور کیوں؟

گھر پہنچ کر مصنف نے علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ کیا جو انھوں نے ایف۔ اے میں پڑھی تھی۔ تا کہ کوئی ایسا بمب بنایا جا سکے جس سے سب پر برابر دھول پڑے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement