تعارف

جدید اردو شاعری میں اردو کی قدیم روایات کے احساس کے ساتھ فکر و فن کے نئے رنگ و آہنگ کی بھی جلوہ گری ہے۔ وجدؔ کی شاعری میں درد و سوزگداز اور بصیرت و مسرت دونوں کا سامان ملتا ہے۔ نام سکندر علی اور تخلص وجد تھا۔ ۲۲ جنوری ۱۹۱۴ کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اورنگ آباد سے ہی حاصل کی۔ عثمانیہ یونی ورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ سرکاری ملازمت کرتے رہے اور ساتھ شعر و سخن سے بھی لگاؤ ہو گیا۔

ادبی سفر

سکندر علی وجد بنیادی طور پر نازک خیال ، شیریں مقال اور قلب و نظر کے شاعر تھے۔ ان کے کمال فن میں اجنتا کا سا حسن تناسب اور شان بیائی ملتی ہے۔ وہ ایک کلاسیکی فرہنگ شعر کے مالک ہیں لیکن لفظوں کی دنیا کے وہ ایک نقش کار اور پیکر تراش بھی ہیں۔ وجد بیانیہ شاعر نہیں ،اسی لیے انھوں نے طویل موضوع کے لیے مثنوی صنف کو اختیار نہیں کیا۔ان کی فکر تغزل کے پردے میں جلوہ گر ہے اس طرح کہ مسدس کی ہیئت کو بھی انھوں نے غزل کا درجہ دے دیا ہے۔ اسی لیے نظم میں ایجاز و اختصار کی ایک ایسی کیفیت پائی جاتی ہے جس سے تشنگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔

وجد کی کامیاب نظمیں وہی ہیں جن میں تصویریت اور نغمگی کے اجزا توازن کے ساتھ یک جا ہو گئے ہیں اور پوری نظم مرقعے میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسی نظموں میں رقاصہ ، نغمے کی موت ، جگنو، نقش و نگار، سارنگی، پھلواری ، ایلورا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اچھا موسیقار خوب جانتا ہے کہ کہاں پر سر اور راگ کا تقاضا کیا ہے، اور اسی نسبت سے و ہ آہنگ میں مدوجزر کے توازن کو ملحوظ رکھتا ہے۔

وجد کے یہاں شعور آہنگ درجہ کمال پر پایا جاتا ہے، اور اس شعور نے ان کی مختلف نظموں میں موضوع کے مناسبت سے، آہنگ کی سطح کو مختلف رکھا ہے۔ وجد کے کلام کا مختصر الفاظ میں تعارف کرایا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ موضوع کے لحاظ سے وہ رومانوی شاعر ہیں۔ رقص ،مصوری اور موسیقی سے ان کی طبیعت کو خو نسبت خاص ہے،اس کے اثر سے بیان میں نغمگی کی لہریں رواں رہتی ہیں۔ بیان کے لحاظ سے نفیس تعبیرات اور روشن استعاروں سے کام لینا اس کا خاص انداز ہے۔ استعاروں سے مدد سے نقش اور تصویر کے ہلکے گہرے عکس ان کے کلام میں نمایاں رہتے ہیں۔

وجدؔ جذبے اور احساس کے شاعر ہیں، جب وہ فکر اور فلسفے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، یا سماجی افادیت کو اپنی شاعری سے قریب کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے آپ سے دور ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی مختصر یا طویل نظمیں ان نظموں کی ہمسری نہیں کرپاتیں جو رومانی تاثرات کی آفریدہ ہیں۔

اعزازات

وجدؔ انجمن ترقّی اردو ،مہاراشٹر کے صدر رہ چکے ہے۔ ۱۹۷۰ میں وجدؔ کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تصانیف

  • سکندر علی وجد کی تصانیف میں
  • آفتاب تازہ،
  • اوراق مصور،
  • بیاض مریم،
  • جمال اجنتا جلال ہمالہ اور
  • لہو ترنگ کے نام سے مجموعے شائع ہوئے۔

آخری ایام

آپ ۱٦ جون ۱۹۸۳ کو ٦۹ برس کی عمر میں دائمی سفر کو روانہ ہو گئے۔ ان کو اورنگ آباد میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔

سکندر علی وجد کی مقبول غزل درج ذیل ہے۔

Advertisements