Advertisement

کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت۔
سبق نمبر3: کہانی(ماخوذ)
مصنف کا نام: پنڈت رتن ناتھ سرشار
سبق کا نام: نہ ہوئی قرولی

Advertisement

خلاصہ سبق:

Advertisement

یہ سبق پنڈت رتن ناتھ سرشار کے ناول فسانہ آزاد سے ماخوذ ہے۔ جس میں خوجی کے کردار کا ایک دلچسپ پہلو بیان کیا گیا ہے کہ خوجی آزاد کے ساتھ مختلف نوابین اور سیر و تفریح کی غرض سے لکھنؤ آئے۔ جہاں انھوں نے ایک سرائے میں قیام کیا۔خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بستر میں بہت زیادہ تعداد میں کھٹمل موجود تھے۔

کھٹملوں کی یورش کی وجہ سے دن بھر کا تھکا ہارا خوجی سو نہ پایا۔ اس نے اٹھ کر بستر پر بڑی تعداد میں کھٹمل دیکھے تو اس کو بہت غصہ آیا ان کھٹملوں کو مارنے کے لیے خوجی قرولی لانے کی صدا بلند کرنے لگا۔جسے لوگ سمجھے کہ سرائے میں کوئی چور آ گیا ہے۔ لوگ اپنے سامان کی فکر میں لگ گئے۔ لوگ جاگتے رہنا کی صدائیں بلند کرنے لگے جس کی وجہ سے سرائے میں کہرام مچ گیا۔

Advertisement

خوجی کو بھی یہ گمان ہوا کہ سچ مچ چور آیا ہے وہ باہر کو لپکا جہاں وہ ایک کمہار کے برتنوں سے ٹکڑا کر اوندھے منھ گرا۔لوگ باہر کی جانب لپکے لوگوں نے میاں خوجی کو چور سمجھ کر خوب مارا جس سے خوجی کے سارے انجر پنجر ڈھیلے ہو گئے۔کافی وقت گزرنے کے بعد ایک شخص نے خوجی کو پہچانا اور سب کو اسے مارنے سے باز رکھا۔لوگ خوجی کی حالت دیکھ کر اسے دبانے لگے۔

آزاد تک یہ خبر اس رنگ میں پہنچی کہ کوئی کہہ رہا خوجی نے برتن چرائے اور کوئی الگ الزام دے رہا۔ آزاد کو یقین نہ آیا کہ خوجی چوری کر سکتا ہے۔ وہ خوجی کی خبر گیری کے کیے نکل کھڑے ہوئے ایسے میں خوجی آزاد کو کوستے ہوئے آرہا تھا مگر آزاد کے معلوم کرنے پر خوجی نے شیخی بگھارتے ہوئے کہا کہ اس نے لوگوں کو بھچاڑ کر ان کا خوب مقابلہ کیا ہے بس اس کے پاس قرولی موجود نہ تھی ورنہ وہ لاشیں گرا دیتا۔

Advertisement

آزاد خوجی کی ان عادات سے واقف تھا اس لیے اس نے خوجی کو ٹوکنے کی بجائے اسے کہا کہ اس کی بہادری کی وجہ سے اسے اس سے یہی امید تھی۔ آخر میں آزاد نے خوجی کو آرام کرنے کا کہا۔

سوچیے اور بتایئے:

میاں خوجی کس کے ساتھ اور کہاں آئے ہوئے تھے؟

میاں خوجی آزاد کے ساتھ لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔

Advertisement

خوجی جہاں ٹھہرے تھے وہاں کیا حادثہ پیش آیا؟

خوجی جہاں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بستر میں بہت زیادہ تعداد میں کھٹمل موجود تھے۔کھٹملوں کی یورش کی وجہ سے دن بھر کا تھکا ہارا خوجی سو نہ پایا۔ ان کٹھملوں کو مارنے کے لیے خوجی قرولی لانے کی صدا بلند کرنے لگا۔جسے لوگ سمجھے کہ سرائے میں کوئی چور آ گیا ہے۔

سرائے میں کہرام کیوں مچ گیا؟

خوجی جب کھٹملوں پر چلایا تو لوگ سمجھے کہ سرائے میں کوئی چور آ گھسا ہے۔لوگ جاگتے رہنا کی صدائیں بلند کرنے لگے جس کی وجہ سے سرائے میں کہرام مچ گیا۔

Advertisement

میاں خوجی کے ساتھ لوگوں نے کیا سلوک کیا؟

لوگوں نے میاں خوجی کو چور سمجھ کر خوب مارا جس سے خوجی کے سارے انجر پنجر ڈھیلے ہو گئے۔

رگ حمیت پھڑک اٹھی اس کی وضاحت کیجیے۔

رگ حمیت پھڑک اٹھنے سے مراد غیرت کو بیدار ہونا ہے۔

Advertisement

خوجی کا دوست کون تھا؟

آزاد خوجی کا دوست تھا۔

خوجی آزاد کی کون سی بات سن کر جھوم اٹھے؟

آزاد کی نواب صاحب کے ہاں حاضری دینے اور ان سے رخصت لینے کی بات سن کر خوجی جھوم اٹھے۔

Advertisement

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

فائدہ مند خالص اور کھری چیزوں کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
بے زاریاحمد کے چہرے سے بے زاری صاف دکھائی دے رہی تھی۔
صدمہوالدین کو بچے کی وفات کا گہرا صدمہ پہنچا۔
قرولی قرولی دیگر ہتھیاروں سے منفرد ہتھیار ہے۔
بسیرا اس کا بسیرا جنگل میں ہے۔

نیچے لکھے ہوئے مذکر الگ کیجیے۔

مذکر کمہار، مٹکا، آدم، برتن ،موتی ، انڈا،قرولی۔
مؤنث سرائے، زمین، کتاب، پیالی، حوا، خوشی۔

عملی کام:

منصب دار ایک مرکب لفظ ہے جس کے معنی ہیں ‘عہدے دار’ اسی طرح لفظوں کے آگے دار لگا کر پانچ لفظ بنائیے:

عزت دار،چوکیدار،مالداد،دوکان دار،قرض دار۔

خوش مذاق ‘خوش’ اور ‘مذاق’ سے مل کر بنا ہے۔ جس کے معنی ہیں اچھا ذوق رکھنے والا۔ یہ صفت ہے اسی طرح خوش کے ساتھ دل،مزاج،رنگ اور بخت ملا کر صفت بنائیے۔

خوش دل ، خوش رنگ ، خوش بخت، خوش مزاج۔

Advertisement

خوجی کا کردار آپ کو کیسا لگا اس کے بارے میں اپنی رائے لکھیے۔

خوجی کا کردار زندگی کی تازگی کا احساس لیے ہوئے ہے۔ خوجی کے کرادر کی ظرافت قاری کو کہانی اور خوجی کے کرادر سے باندھے رکھتی ہے۔ خوجی بظاہر تو اپنی حماقتوں کی وجہ سے مشہور ہے مگر اس کی یہ حماقتیں ہی اس کی مقبولیت کی وجہ ہیں۔

سمجھیے اور پڑھیے:

اس سبق میں محاورے اور کہاوتیں استعمال ہوئی ہیں عام بول چال میں شامل ایسے فقرے جو اپنے اصل معنی کے بجاۓ مختلف معنی میں استعمال ہوتے ہیں، انھیں محاورہ کہتے ہیں۔ عام بول چال کے چند جملے جو اپنے لفظی معنی سے ہٹ کر کچھ اور معنی ادا کرتے ہیں نھیں کہاوتیں کہتے ہیں۔ محاوروں کی طرح کہاوتوں میں بھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

Advertisement

محاورے اور کہاوتوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

جان پر آ بننا مہنگائی کی لہر سے عوام کی جان پر آبنی۔
موت کے گھاٹ اتارناہماری فوج نے اپنی بہادری سے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
مرغ کی ایک ٹانگ اس کو ایک بات سو طرح سے سمجھا چکنے کے بعد بھی وہی مرغ کی ایک ٹانگ نتیجہ برآمد ہوا۔
بات کا بتنگڑ بنانا عالیہ کی ذرا سی بات کو بتنگڑ بنانے کی عادت ہے۔
پالا نہ پڑنا کسی کے دشمن کا بھی کم ظرف انسان سے پالا نہ پڑے۔