Advertisement

اس کے معنی ہیں ایک ہی جنس یا ایک ہی نوع کا ہونا۔ اس کی تین قسمیں ہیں۔

Advertisement

1۔ تجنیس تام

جب شعر میں دو ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن کا تلفظ ایک ہو لیکن معنی مختلف ہو تو اس شعر میں تجنیس تام کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:

Advertisement

سب سہیں گے ہم اگر لاکھ برائی ہوگی
پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی

Advertisement

2۔ تجنیس محرف

کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال جن کے حروف یکساں ہوں لیکن حرکات و سکنات میں فرق ہو۔ مثلاً:

یہ بھی نہ پوچھا کسی صیاد نے
کون رہا کون رہا ہو گیا

Advertisement

3۔ تجنیس مضارع

جب دو لفظوں کے بعض حروف مختلف ہوں اور ان میں ایک حرف سے زیادہ قریب المخرج ہوں یعنی ان کو ادا کرنے میں حلق کا ایک ہی حصہ یا اس کے قریب کا حصہ کام میں لایا جائے۔ مثلاً:

زندگی بھی ہم سے ہے بیزار سے
زندگی سے بھی ہیں ہم بیزار سے

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement