• کتاب”جان پہچان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر16:کہانی
  • سبق کا نام: پہلی جنگ آزادی کا سپہ سالار

خلاصہ سبق:

اس سبق میں پہلی جنگ آزادی کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔عا مر جس کے سکول میں آزادی کے جشن کے موقع پر ڈراما سٹیج کیا گیا۔ جس کا موضوع بہادر شاہ ظفر پہلی جنگ آزادی کا سپہ سالار تھا۔ عامر نے بھی اس ڈرامے میں حصہ لیا اور گھر آ کر اپنے والد سے اس بارے میں مزید معلومات لیں۔ اس کے والد نے بتایا کہ انگریز ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر بن کر آئے۔اپنی چالاکی اور نکاری سے انھوں نے ہندوستان کے معملات میں دخل دینا شروع کر دیا۔

1837ء میں بہادر شاہ ظفر بادشاہ بنے جس کے بعد مغلوں کی حکومت برائے نام رہ گئی۔ کمپنی کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں آکر اپنی فوج بنا لی۔ یہاں کے مقامی لوگوں کو تنخواہیں دے کر اپنی فوج میں شامل کر لیا۔مگر جب ان انگریزوں کی ناانصافیاں بڑھنے لگی تو مقامی عوام میں بے چینی پھیلنے لگی۔ وہ اپنے ملک کو انگریزوں سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔1857ء میں انگریزوں کے خلاف اودھ کی بیگم حضرت محل، جھانسی کی رانی لکشمی بائی ، بہار کے بابو کنور سنگھ ، نانا صاحب پیشوا اور تانتیا ٹوپے وغیرہ تھے۔ انگریز فوج کے ہندوستانی سپاہیوں میں بھی بے چینی بڑھنے لگی۔

Advertisement

انگریزوں کی ہندوستانی سپاہیوں سے بدسلوکی بڑھنے لگی۔میرٹھ چھاؤنی کے ہندوستانی سپاہیوں نے بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ 10 مئی 1857ء کو پانچ ہزار سپاہیوں نے دلی کا رخ کیا اور لال قلعہ جا کر بہادر شاہ ظفر کو اپنا سربراہ تسلیم کیا۔بہادر شاہ ظفر نے فوج کی کمان جرنل بخت خان کو سونپی۔ دوسری جانب انگریزوں کی فوجیں دلی کے باہر اپنے مورچے بنائے ڈٹی رہیں۔

انھوں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے شہر میں جاسوس چھوڑ رکھے تھے جبکہ ہندوستانی فوج منظم نہ تھی اور وسائل کی بھی کمی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دوبارہ دلی پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت انگریزوں کی چالاکی کام کر گئی۔ بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کو سر عام گولی مار کر بہادر شاہ ظفر پر غرداری کا ۔قدمی چلا کر انھیں جلا وطن کر کے رنگون بھیج دیا گیا۔ وہیں 1862ء میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی خواہش کے مطابق انھیں ہندوستان کی سر زمین میں دفن ہونا بھی نصیب نہ ہوا۔سبھاش چندر بوس نے ان کے مزار پر حاضری دی اور بہادر شاہ ظفر کی باقیات ہندوستان لے جانے کی خواہش ظاہر کی۔اسی جنگ کی کامیابی کی نوید 15 اگست کا دن ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

انگریز ہندوستان میں کس کمپنی کے تاجر بن کر آۓ؟

انگریز ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر بن کر آئے۔

1857ء میں جولوگ انگریزوں کے خلاف تھے ان کے نام بتائیے؟

1857ء میں انگریزوں کے خلاف اودھ کی بیگم حضرت محل، جھانسی کی رانی لکشمی بائی ، بہار کے بابو کنور سنگھ ، نانا صاحب پیشوا اور تانتیا ٹوپے وغیرہ تھے۔

بہادر شاہ ظفر نے فوج کی کمان کس جزل کو سونپی؟

بہادر شاہ ظفر نے فوج کی کمان جرنل بخت خان کو سونپی۔

انگریز دوبارہ دلی پر قابض ہونے میں کیوں کامیاب ہو گئے؟

انگریزوں کی فوجیں دلی کے باہر اپنے مورچے بنائے ڈٹی رہیں۔انھوں نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے شہر میں جاسوس چھوڑ رکھے تھے جبکہ ہندوستانی فوج منظم نہ تھی اور وسائل کی بھی کمی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دوبارہ دلی پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پہلی جنگ آزادی کو انگریزوں نے کیا نام دیا؟

پہلی جنگ آزادی کو انگریزوں نے غدر کا نام دیا۔

سبھاش چندر بوس کی فوج کا نام کیا تھا؟

سبھاش چندر بوس کی فوج کا نام آزاد ہند فوج تھا۔

نیچے دیے ہوۓ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

قدم اکھڑنافوج کی پیش قدمی سے دشمنوں کے قدم اکھڑنے لگے۔
اونے پونے خریدنا انگریزوں نے ہندوستانی تاجروں کا مال اونے پونے داموں خریدنا شروع کر دیا۔
بھاری پڑناہماری بہادر فوج دشمن پر بھاری پڑنے لگی۔

نیچے دیے ہوۓ الفاظ کے متضاد لکھیے:

کامیابناکام
موتزندگی
آزادیغلامی
سوالجواب
خرابٹھیک

نیچے دیے ہوۓ جملوں میں فعل کی نشان دہی کیجیے:

ہندوستانی فوجیوں نے انگریزوں کو دلی سے بھگا دیا۔(فعل: بھگا دیا)
ہندوستانی سپاہیوں نے ڈٹ کر انگریزوں کا مقابلہ کیا۔(فعل: مقابلہ کیا)
بہادر شاہ ظفر کے باقیات ہندوستان لے جاۓ جائیں۔(فعل:لے جائے جائیں)
بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ (فعل:تسلیم کیا)

عملی کام : ایسی پانچ جگہوں کے نام لکھیے جن کا ذکر جنگ آزادی کے سلسلے میں کیا جا تا ہے۔

دہلی ،میرٹھ ،لکھنو ،کانپور ،جھانسی ،بہار،اودھ، حیدرآباد وغیرہ۔