نماز کی پابندی ہر بالغ مرد و عورت پر لازم ہے۔ سرور عالم کا ارشاد ہے کہ جس نے نماز کی پابندی کی (قیامت کے دن ) نماز اسکے لئے نور ہوگی اور (اس کے ایمان کی) دلیل اور (اسکے ایمان کی) دلیل اور (اس کے لیے) نجات کا سامان ہوگی اور جس نے نماز کی پابندی نہ کی وہ شخص قیامت کے دن قارون، ہامان فرعون اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(مشکوٰة شریف)

عزیز ساتھیو اس حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو نماز کی پابندی نہ کرے گا اس کا حساب کیسے بڑے کافروں کے ساتھ بتایا جو کفر کے سرغنے تھے اور خدا کے باغیوں کے ذکر میں جن کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے۔ بزرگوں نے بتایا ہے کہ ان چار شخصوں کا ذکر اس وجہ سے کیا ہےکہ نماز پڑھنے والے عموماً چار قسم کے ہوتے ہیں۔

  • نمبر1 جو حاکم ہونے کی وجہ سے نماز ترک کرتے ہیں یہ لوگ فرعون کے ساتھی ہوئے کیونکہ وہ حکومت کی وجہ سے اللہ پاک کا باغی بنا تھا۔
  • نمبر2 جو مالداری کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے یہ لوگ قارون کے ساتھی ہوں گے کیونکہ وہ مال کی وجہ سے خدائے تعالی کا نافرمان بنا تھا۔
  • نمبر 3 جو لوگ ملازمت کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے تھے یہ لوگ ہامان کے ساتھ ہوں گے کیوں کہ اس نے فرعون کا وزیر ہونے کی وجہ سے خدائے پاک کی بغاوت اور سرکشی اختیار کی تھی۔
  • نمبر 4 جو لوگ تجارت اور دکانداری کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے یہ لوگ ابی بن خلف کے ساتھ ہوں گے کیونکہ یہ شخص ایک بڑا مشرک تھا اس کو حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے قتل فرمایا تھا۔

دوستو! اللہ پاک نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے۔ زنا کرنے کو لوگ گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا زنا سے بڑا جرم ہے، رشوت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا رشوت کھانے سے بڑا جرم ہے، قتل کرنا بڑا گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم ہے، سجدے ہی کا تو انکار کیا تھا شیطان نے، شیطان نے کوئی زنا کیا تھا؟ قتل کیا تھا؟ کوئی شراب پی تھی؟ کوئی جوا کھیلا تھا ؟ کیا کیا تھا؟ کوئی شرک کیا تھا؟ نہیں بلکہ ایک سجدے کا انکار کرکے وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا۔

اس مسلمان کو ہوش نہیں ہے جو روزانہ دن میں پانچ دفعہ حدیثیوں سجدوں کا انکار کئے بیٹھا ہوا ہے اور پھر آرام سے روٹی کھاتا ہے، آرام سے چائے پیتا ہے اور آرام سے قہقہے لگاتا ہے اور آرام سے اخبار پڑھتا ہے، آرام سے بیوی کے پہلو میں لیٹتا ہے۔ ایک سجدے کا انکار کرکے شیطان ہمیشہ کے لئے مردود ہوا جس نے فجر کے سجدوں کا انکار کیا، پھر ظہر کے سجدوں کا مذاق اڑایا، پھر عصر کا مذاق اڑایا، پھر مغرب اور عشاءکا مذاق اڑایا اس سے بیوقوف بھی کوئی ہو سکتا ہے؟

گھر میں نماز پڑھنا بھی چلو نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے پر یہ بھی نماز کا مذاق ہی ہے اور آپ آٹھویں دن سر پر ٹوپی رکھ کے جمعہ کی نماز ادا کر لیتے ہیں۔ آٹھ دن جس نے اتنے سجدوں کا انکار کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ اسے مردود نہ کردے۔ تو کیا ہوگا اس دن جب جن بچوں کی خاطر یا جس نفس کی خاطر اللہ سے بغاوت کی، کہ اٹھا نہیں جاتا، آیا نہیں جاتا ، گرمی بہت ہے یا سردی بڑھ گئی ہے، اندھیرا بہت ہے۔ کیا قبر کے اندھیرے یاد نہیں ہیں، کیا قبر کی گرمی یاد نہیں ہے، کیا جہنم کی آگ بھول گئے؟ کیا جہنم کے عذاب بھول گئے ؟ کیا جنت کی نعمتیں بھول گئے ؟ وہ اللہ کا کلام بھول گئے؟ وہ اللہ کا دیدار بھول گئے اللہ سے ملاقات بھول گئے وہ محبوب خدا کی محفل بھول گئے۔ یہ کیسا اسلام ہے یہ کیسے پتھر دل ہیں جو کمانے میں تو ایسے مصروف ہوے کہ ہوش نہیں اور جب اللہ بلائے تو ایسے غافل ہو جائیں کہ نہ بوڑھے اور نہ جوان کو ہوش آے نہ کسی عورت کو ہوش آیا نہ کسی مرد کو ہوش آے نہ بازار بند ہوا۔

ارے میرے بھائی حکومت سے پیسہ بچانے کے لیے ہڑتالیں کیں۔ بیس بیس دن بازار نہ کھولے اگر نماز کے لئے دکانیں بند کرتے تو آج اللہ تعالی آپ کو ہر ظالم کے ظلم سے باہر نکال لیتا اور کوئی ظالم نہ آپکے مال پر ہاتھ ڈالتا نہ کوئی آپکی عزت و آبرو پر ہاتھ ڈالتا۔ دن دہاڑے ڈاکے پڑے اسلیے پڑے کہ ہم باغی ہوگئے ہم نے اللہ سے بغاوت کر دی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نمازوں کی پابندی کریں اور نماز ترک کرنے سے گریز کریں کیونکہ بے نمازی کا حشر بہت ہی سنگین ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہم تمام کو نمازوں کی پابندی کرنے والا بنائیں اور بے نمازی کے برے حشر سے بچائے۔ آمین

Advertisements