حضرت محمدﷺ کے اقوال



  • ہر مسلم مرد، عورت پر علم دین حاصل کرنا فرض ہے۔
  • علم حاصل کرو اگر چہ چین سے دستیاب ہو۔
  • جس نے دل سے جان لیا کہ بے شک اللہ پاک اس کا رب ہے اور میں اس کا رسول ہوں اس کے حم و دم کو اللہ تعالی نے جہنم پر حرام فرمایا۔
  • احسان کا بدلہ نہ چاہنا احسان ہے۔
  • جو شخص اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
  • کسی انسان کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
  • خیرات کرو اور پہنو اس حد تک کہ فضول خرچی اور تکبر نہ کرو۔
  • بھیڑیا اس بکری کو کھاتا ہے جو گلے سے باہر رہتی ہے۔
  • آپس میں سلام کا رواج عام کرو محبت بڑھے گی۔
  • خدا کی نظر میں وہ عظیم ہے جس کا کردار بلند ہے۔
  • سادگی ایمان کی علامت ہے۔
  • جو چیز تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے کسی مسلمان کے لئے پسند نہ کرو۔
  • صفائی نصف ایمان ہے۔
  • ایمان کے بعد افضل ترین نیکی خلق کو آرام دینا ہے۔
  • اخلاق کا اچھا ہونا محبت الٰہی کی دلیل ہے۔
  • حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو بھسم کر دیتی ہے۔
  • قیامت کے دن بدترین حالت اس شخص کی ہوگی جس نے دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت تباہ کر ڈالی۔
  • اچھے لوگ وہ ہیں جو قرض کو خوش دلی سے ادا کرتے ہیں۔
  • اللہ تعالی فساد کو پسند نہیں کرتا اس لئے زمین پر فساد نہ کرو۔
  • خاموشی بہت بڑی حکمت عملی ہے۔
  • اپنے گھر کی دیوار اتنی بلند نہ کرو کہ پڑوسی کی ہوا رک جائے۔
  • اگر تمہارا کھانا حسب خواہش نہ ہو تو اسے برا نہ کہو۔
  • ہمیشہ سچی اور حق بات کہو اگرچہ نہ خوشگوار اور کڑوی ہو۔
  • وعدہ ایک فرض ہے جس کا پورا کرنا ضروری ہے۔
  • دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
  • دولتمند پر حسد نہ کرو، دولت کی لذتیں خالی اور عارضی ہیں۔
  • وہ شخص بے دین ہے جس میں دیانتداری نہیں۔
  • بلند ہمتی ایمان کی علامت ہے۔
  • پڑوسی کی حد چالیس گھر تک ہے۔
  • جو شخص جھوٹی قسم کھائے اپنا ٹھکانہ جہنم میں پائے۔
  • مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے بہتر سلوک کیا جائے۔
  • عمل علم کو آواز دیتا ہے۔ پس اگر وہ جواب دے تو ٹھہر جاتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔
  • وہ ذلیل ہے جس نے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی۔
  • مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔
  • دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
  • زیادہ نہ ہنسو، زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
  • جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وضو کرے۔
  • گھر لینے سے پہلے پڑوسی کو دیکھ لو۔
  • نیک عورت دنیا کی سب سے اچھی متاع ہے۔
  • کھانا کھانے والے کو سلام نہ کرو۔
  • رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنم میں جائیں گے۔
  • ہر کام کا بدلہ نیت کے مطابق ملے گا۔
  • مسلمانوں کے بارے میں نیک گمان رکھا کرو۔
  • سب سے اچھا شخص وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔
  • مصافحہ کیا کرو اس سے کینا جاتا رہتا ہے۔
  • مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔
  • بد خلق، بد خوار اور سخت گو آدمی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
  • ہمسایہ کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھو۔
  • بسم اللہ پڑھو اور داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور جو چیز قریب ہو اس میں سے کھاؤ۔
  • صبح کا سونا روزی کو روکتا ہے۔
  • کسی کے عیبوں کی تلاش اور جستجو نہ کرو۔
  • جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالی بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔
  • نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں خلش پیدا کرے اور تو اس امر کو برا سمجھے کہ لوگ اس سے واقف ہو جائیں گے۔
  • تہمت لگانے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
  • جب کوئی بندہ خوف الہٰی سے کانپتا ہے تو اس کے گناہ اس کے بدن سے ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت کو ہلانے سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
  • جو شخص خوف خدا سے روتا ہے وہ جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا اسی طرح جیسے کہ دودھ دوبارہ تھنوں میں نہیں جاتا۔
  • اپنے دلوں کو زیادہ کھانے پینے سے ہلاک نہ کرو جس طرح زیادہ پانی سے کھیتی تباہ ہوجاتی ہے اسی طرح زیادہ کھانے پینے سے دل ہلاک ہو جاتا ہے۔
  • شیطان تمہارے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اس کے ان راستوں کو بھوک سے بند کرو۔
  • نفس کے ساتھ جہاد بہترین جہاد ہے۔
  • گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔
  • جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔
  • اس کا ایمان نہیں جس میں امانت نہیں اور اس کا دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔
  • جس نے تجھے امین بنایا اس کو امانت لوٹا دے اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔
  • اللہ تعالی قرض کے سوا شہید کے ہر گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔
  • جس نے کسی خلاف سنت بات پیدا کرنے والے کو جھڑک دیا اللہ تعالی اس کے دل کو ایمان و اطمینان سے بھر دے گا۔
  • میری امت میں سب سے افضل شہید وہ ہے جو ظالم حاکم کے پاس گیا اسے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اسی وجہ سے قتل کردیا گیا ایسے شہید کا ٹھکانا جنت میں حضرت حمزہ اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان ہوگا۔
  • جو مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا اس نے جنت کا راستہ کھو دیا۔
  • دھوکا، فریب اور خیانت جہنمیوں کا شیوہ ہے۔
  • عنقریب امانت اٹھا لی جائے گی اور لوگ باہم تجارت کریں گے مگر امین کوئی نہیں ہو گا یہاں تک کہ کہا جائے گا فلاں قبیلہ میں فلاں آدمی امین ہے یعنی امین آدمی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔



Close