حضرت عمر کے اقوال

  • آج کا کام کل پر مت رکھو۔
  • منہ پر تعریف کرنا ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
  • طالب دنیا کو علم پڑھانا رہزن کے ہاتھ تلوار بیچنا ہے۔
  • ایمان کے بعد نیک بخت بیوی سے زیادہ کوئی نعمت نہیں۔
  • گناہ کا ترک کردینا توبہ کی تکلیف سے زیادہ آسان ہے۔
  • ہر چیز کا ایک حسن ہوتا ہے اور نیکی کا حسن یہ ہے کہ فوراً کی جائے۔
  • ظالموں کو معاف کرنا مظلوموں پر ظلم ہے۔
  • جو تجھے تیرے عیب سے آگاہ کرے وہ تیرا دوست ہے۔
  • غریب کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ تاکہ اس کی زبان کھلے اور ہمت پڑے۔
  • اوروں کی فکر میں اپنے آپ کو مت بھول جاؤ۔
  • عدل مظلوم کی جنت اور ظالم کی جہنم ہے۔
  • نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔
  • زیادہ ہنسنا موت سے غفلت کی نشانی ہے۔
  • فتح امید سے نہیں، علم اور خدا پر اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔
  • جو شخص اپنے بھید کو پوشیدہ رکھے وہ مختیار ہے۔
  • جس سے تم متنفر ہو اس سے ڈرتے رہو۔
  • عقلمند شخص وہ ہے جو اپنے افعال کی تکمیل نیک کرسکتا ہے۔
  • خشوع و خضوع کا تعلق دل سے ہے، نہ کہ ظاہری حرکت سے۔
  • تین چیزیں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ اول سلام کرنا،دوم دوسروں کے لئے مجلس میں جگہ خالی کرنا، سوئم مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا۔
  • عزت دنیا مال سے ہے اور عزت آخرت اعمال سے ہے۔
  • بڑھاپے سے پہلے جوانی اور موت سے پہلے بڑھاپے کو غنیمت جانو۔
  • جو شخص راز پوشیدہ رکھتا ہے وہ گویا اپنی سلامتی کو اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔
  • طمع کرنا مفلسی، بے غرض ہونا امیری اور بدلہ نہ چاہنا صبر ہے۔
  • شریف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ جب اس کا مقابلہ کمزور سے پڑے تو اپنے آپ کو پیچھے ہٹا لے۔
  • سب سے زیادہ عقلمند وہ شخص ہے جو اپنی بات کو اچھی طرح ثابت کر سکے۔
  • تم جس سے نفرت کرتے ہو اس سے ہوشیار رہو۔
  • جو برائی سے بے خبر ہے وہ برائی میں مبتلا ہوگا۔
  • دنیا کو کم حاصل کرو تو زندگی آزادانہ بسر ہوگی۔
  • نہ تمہاری محبت حد سے زیادہ ہو نہ تمہاری نفرت۔
  • اللہ تعالی اس پر رحم نہیں کرتا جو دوسروں پر رحم نہ کرے۔



Close