حضرت ابوبکر صدیق کے اقوال

  • آنسو بہا اس دن پر جو تیری زندگی سے گزر گیا اور اس میں کوئی نیکی نہیں ہوئی۔
  • اے لوگو! خوف الہی سے تم میں سے جو رو سکے وہ روئے کہ وہ دن آنے والا ہے کہ تم رو لائے جاؤ گے۔
  • خواہ کوئی جانور مارا جائے یا کوئی درخت کاٹا جائے اس کا باعث اس کا اللہ تعالی کی تسبیح سے رک جانا ہوتا ہے۔
  • صالحین دنیا سے یکے بعد دیگرے اٹھا لیے جائیں گے صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو اس طرح بے کار ہوں گے جیسے جو اور کھجور کا چھلکا اور ان سے اللہ تعالیٰ کو کوئی تعلق نہ ہو گا۔
  • گلے اور شکوے سے زبان بند رکھو۔ راحت نصیب ہو گی۔
  • جس پر نصیحت اثر نہ کرے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔
  • جو اللہ پاک کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ پاک اس کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔
  • اخلاق یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ چاہے۔
  • مجھے یہ پسند تھا کہ میں بندۂ مومن کے سینے کا ایک بال ہوتا۔
  • میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں ایسا درخت ہوتا جس کو کھا لیا جاتا اور پھر کاٹ دیا جاتا۔
  • کاش میں سبزہ کی طرح ہوتا کہ مجھے چوپائے چر جاتے۔
  • اے مسلمانو! اللہ پاک سے ڈرو! اچھی طرح یقین کرلو کہ وہ وقت قریب ہے جب ہر پوشیدہ بات ظاہر ہوجائے گی اور لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہر چیز میں تمہارا کتنا حصہ ہے، تم نے کیا کھایا اور کیا چھوڑا۔
  • برے لوگوں کی ہم نشینی سے تنہائی بہتر ہے۔
  • سحرخیزی میں پرندوں کا سبقت لے جانا تیرے لئے باعثِ ندامت ہے۔
  • عدل و انصاف ہر چیز سے خوب ہے۔
  • صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے باادب پیش کر کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کا نشان ہے۔
  • زندگی کی گردش اگرچہ عجیب امر ہے لیکن اس سے غفلت عجیب تر ہے۔
  • جہاد کفار اصغر ہے اور جہاد نفس جہاد اکبر ہے۔
  • مصیبت کی جڑ کی بنیاد انسان کی گفتگو ہے۔
  • عورتوں کو سونے کی سرخی اور زعفران کی زردی نے ہلاک کر رکھا ہے۔
  • جواں مردی اور حقیقی سخاوت یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی تکلیف اپنے سر لے۔
  • عقلمند کی پہچان کم گوئی ہے۔
  • قلب پر اکثر مصیبتیں آنکھ کے راستے آتی ہیں۔
  • اشخاص کو حق سے پہچانو، حق کو اشخاص سے نہیں۔
  • شریف آدمی دولت علم حاصل کرکے متواضع ہو جاتا ہے اور شریر علم حاصل کرکے متکبر ہو جاتا ہے۔
  • علم بغیر عمل کے بیکار سا ہے اور عمل بغیر علم کے بیمار سا ہے۔
  • مجھے نئے کپڑوں میں دفن نہ کیا جائے، نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق وہ ہے جو زندہ ہیں اور برہنہ ہیں۔
  • انسان ضعیف ہے، تعجب ہے کہ وہ کیوں کر خدائے قوی کی نافرمانی کرتا ہے۔
  • پرہیز کرو، پرہیز نفع دیتا ہے۔ عمل کرو، عمل قبول کیا جاتا ہے۔
  • میوہ دار درخت کو مت کاٹنا۔



Close