Advertisement
  • اسم: (संज्ञा) کسی بھی چیز اور کسی بھی طرح کے نام کو اسم کہتے ہیں۔
  • مثال: ارمش، کملا، زمین، آسمان، پھول وغیرہ۔

اسم کی دو قسمیں ہیں:
(1) اسم خاص (اسم معرفہ) (व्यक्ति वाचक संज्ञा)
(2) اسم عام (اسم نکرہ) (जातिवाचक संज्ञा)

Advertisement

⭕️ (1) اسم خاص (اسم معرفہ):

کسی بھی خاص چیز یا کسی بھی طرح کے خاص نام کو اسم خاص یا اسم معرفہ کہتے ہیں۔
مثال : تاج محل، جے پور، اے پی جے عبدالکلام،
▪️اسم خاص (اسم معرفہ) کی قسمیں:
🔺عموماً اسم خاص پانچ طرح کے ہوتے ہیں۔
(1) اسم خطاب
(2) اسم لقب
(3) اسم عرف
(4) اسم تخلص
(5) اسم کینیت

Advertisement

▪️اسم خطاب:

وہ خاص نام جو خاص شخص کو سوسائٹی، حکومت یا بادشاہ کی طرف سے کسی خاص کام کو انجام دینے پر جو نام دیا جائے، اسے اسم خطاب کہتے ہیں۔
مثال: عارف جنگ، خان بہادر، بھارت رتن، پدم شری وغیرہ۔

Advertisement

▪️اسم لقب:

کسی شخص کی خصوصیت کی وجہ سے جو نام مشہور ہو جائے اسے اسم لقب کہتے ہیں۔
مثال: غریب نواز (خواجہ معین الدین چشتی)
شیرِ خدا (حضرت علی)

▪️اسم عرف:

کسی شخص کے اصلی نام کے علاوہ لاڈ پیار کی وجہ سے یا عوامی پہچان کی وجہ سے جو نام مشہور ہو جائے اسے اسم عرف کہتے ہیں۔
مثال: گڈو پپو بھولا چھوٹو وغیرہ

Advertisement

▪️ اسم تخلص:

شاعر اپنے اصلی نام کے علاوہ شاعرانہ نام رکھتا ہے اسے تخلص کہتے ہیں۔
مثال: اسداللہ خان (غالب)
شیخ محمد ابراہیم (ذوق)
میر تقی (میر)

▪️ اسم کینیت:

ماں باپ، اولاد یا خاندان کی وجہ سے جو نام مشہور ہو جائے اسے اسم کینیت کہتے ہیں۔
مثال: ابوحنیفہ، ابوطالب، فاروقی، ملکی، اباسی وغیرہ۔

Advertisement

⭕️ اسم عام (اسم نکرہ) :

کسی بھی عام چیز یا کسی بھی طرح کے عام نام کو اسم عام یا اسم نکرہ کہتے ہیں۔
مثال: کتاب، گھر، شہر وغیرہ۔

▪️اسم عام (اسم نکرہ) کی قسمیں:

🔺اسم عام (اسم نکرہ) کی بھی کئی قسمیں ہیں۔

Advertisement

(1) اسم کیفیت
(2) اسم آلہ
(3) اسم ظرف
(4) اسم جمع

▪️اسم کیفیت:

وہ اسم جس سے کوئی خاص حالت یا کیفیت معلوم ہو اسے اسم کیفیت کہتے ہیں۔ (اسم کیفیت کا تعلق خارجی اور داخلی دونوں طرح کی چیزوں سے ہوتا ہے۔)
مثال: روشنی، جلن، بھاری، خوشی، غم وغیرہ۔

Advertisement

▪️ اسم آلہ:

وہ اسم جس سے کسی ہتھیار یا آلہ کا ہونا معلوم ہو اسے اسم آلہ کہتے ہیں۔
مثال: چاقو، تلوار، آری، ہتھوڑا وغیرہ۔

▪️ اسم ظرف:

وہ اسم جس سے کسی جگہ کا اندازہ ہو اسے اسم ظرف کہتے ہیں۔
مثال: گھر، میدان، باغ وغیرہ۔

Advertisement

▪️ اسم جمع:

وہ اسم جس سے ظاہر میں ایک ہی نام محسوس ہو مگر وہ کئی ناموں کا مجموعہ ہو اسے اسم جمع کہتے ہیں۔
مثال: فوج، قطار، سماج، قوم وغیرہ۔

⭕️ فعل، فاعل، مفعول، فعل معروف، فعل مجہول کی تعریف:

Advertisement

▪️فعل: (क्रया)

کسی بھی کام کو فعل کہتے ہیں۔
مثال: آنا، جانا، رونا، ہنسنا وغیرہ

▪️فاعل:(कर्ता)

کسی بھی فعل (کام) کو کرنے والا فاعل کہلاتا ہے۔
مثال: ارمش نے چاۓ پی، زید ہنس رہا ہے۔

Advertisement

▪️ مفعول: (कर्म)

جس پر یا جس کے ساتھ کام کیا جائے اسے مفعول کہتے ہیں۔
مثال: فاطمہ نے کھانا بنایا، انس کرکٹ کھیل رہا ہے۔
یہاں پر (کھانا، کرکٹ) مفعول ہے۔

Advertisement

▪️ فعل معروف:

وہ فعل ہے جس میں کام کرنے والا معلوم ہو۔ اسے فعل معروف کہتے ہیں۔
مثال: ارمش نے کتاب پڑھی، اقصیٰ سو رہی ہے۔
(اس میں کام کرنے والا معلوم ہو رہا ہے۔)

▪️فعل مجہول:

وہ فعل جس میں کام کرنے والا معلوم نہ ہو۔ اسے فعل مجہول کہتے ہیں۔
۔ مثال: کھانا تیار کر دیا، کھلونا توڑ دیا۔
(اس میں کام کرنے والا معلوم نہیں ہو رہا۔)

Advertisement

⭕️ فعل کی معنوی اعتبار سے تین قسمیں ہیں:

(1) فعل لازم
(2) فعل متعدی
(3) فعل ناقص

Advertisement

▪️فعل لازم:

کسی کام کا کرنا یا ہونا معلوم ہو تو اسے فعل لازم کہا جاتا ہے، مگر اس میں شرط یہ ہے کہ کام کا اثر فاعل (کام کرنے والے) تک رہے، آگے نہ بڑھے۔
مثال: انس آیا۔ اقصیٰ گئی، ارمش نے کھایا وغیرہ۔
ان تینوں جملوں میں فعل (کام) کا اثر صرف فاعل (کام کرنے والے) تک ہے۔ اس لیے یہ سب فعل لازم کی مثالیں ہیں۔

Advertisement

▪️ فعل متعدی:

کسی کام کا اثر صرف کام کرنے والے تک نہ رہے بلکہ مفعول (جس پر کام ہو) تک پہنچ جائے، اسے فعل متعدی کہتے ہیں۔
مثال: انس نے کاغز پر لکھا، ارمش نے کتاب پڑھی، اقصیٰ نے سیب کھایا وغیرہ۔
ان تینوں جملوں میں فعل (کام) فاعل (کام کرنے والا) سے گزر کر مفعول (جس پر کام ہو) تک پہنچ گیا ہے، اس لیے یہ سب فعل متعدی کی مثالیں ہیں۔

▪️ فعل ناقص:

جو کام کسی پر اثر نہ ڈالے مگر اثر کو ثابت کرے اسے فعل ناقص کہا جاتا ہے۔
مثال: ارمش تندرست ہے، اقصیٰ موٹی ہو گئی، عبیر گورا ہو گیا ہے وغیرہ۔
ان تینوں میں فعل (کام) کا اثر ثابت ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ سب فعل ناقص کی مثالیں ہیں۔

Advertisement

⭕️ضمیر کی تعریف اور قسمیں: (सर्वनाम)

▪️ضمیر:

وہ الفاظ جو اسم کی جگہ استعمال ہو ضمیر کہلاتے ہیں۔
مثال: تم، میں، وہ، ہم، وغیرہ۔

▪️ضمیر کی قسمیں پانچ ہیں:
(1) ضمیر شخصی
(2) ضمیر موصولہ
(3) ضمیر استفہامیہ
(4) ضمیر اشارہ
(5) ضمیر تنکیر

Advertisement

▪️ضمیر شخصی:

وہ لفظ جو کسی آدمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسے ضمیر شخصی کہتے ہیں۔
مثال:- میں، تو، وہ، ان،وغیرہ ۔

🔺نوٹ: اس کے استعمال کی تین صورتیں ہیں۔
(1) ضمیر متکلم
(2) ضمیر حاضر
(3) ضمیر غائب

Advertisement

🔺ضمیر متکلم:

بات کرنے والا اپنے لئے جو ضمیر استعمال کرتا ہے۔ اسکو ضمیر متکلم کہتے ہیں۔
مثال: میں، ہم، میرا، ہمارا، مجھے، ہمیں، مجھ میں، ہم میں، وغیرہ ۔

🔺ضمیر حاضر:

وہ ضمیر جو بات کرنے والا اپنے سامنے والے یعنی سامنے سننے والے سے مخاطب ہو کر کہے۔ سے ضمیر حاضر کہتے ہیں۔
مثال: تو، تم، تجھ کو، تم کو، تمہیں، تیرا، تمہارے، تجھ میں، تم میں، تجھ سے، تم سے،وغیرہ ۔

🔺ضمیر غائب:

وہ ضمیر جو نظر سے دور رہنے والے کے لئے استعمال ہو ۔ اسے ضمیر غائب کہتے ہیں۔
مثال: وہ ، اس کو، ان کو، انہیں، اس کا، ان کا، ان میں، ان سے، اس سے،وغیرہ ۔

▪️ضمیر موصولہ:

وہ ضمیر جو کسی اسم کے بدلے آتی ہے ۔
مثال: جو ، جس نے، جنہوں نے، جن کو، جس کو، جسے، جنہیں، جس میں، جن میں، وغیرہ۔

▪️ضمیر استفہامیہ:

ضمیر استفہامیہ یہ ضمیر سوالیہ ہوتا ہے ۔
مثال: کون؟ کس نے؟ کس کو؟ کس میں؟ کن میں؟ وغیرہ ۔

▪️ضمیر اشارہ:

وہ ضمیر جس میں اشارہ کیا جاتا ہے۔ اسے ضمیر اشارہ کہتے ہیں۔
مثال: وہ ، یہ، اُس سے، اِس سے۔ وغیرہ ۔

▪️ضمیر تنکیر:

وہ ضمیر ہے جس میں غیر معیّن شخص یا شئے (چیز) کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اسے ضمیر تنکیر کہتے ہیں۔
مثال:- کوئ، کچھ، کسی نے، کسی کو، وغیرہ۔

⭕️صفت اور صفت کے قسموں کی تعریف: (विशेषण)

▪️صفت:

وہ لفظ جس سے اسم کی حالت اور کیفیت (خوبی/ خامی) کو بتاۓ۔ اسے صفت کہتے ہیں ۔
مثال: ذہین لڑکی، لمبا آدمی، پیلی ٹوپی، وغیرہ ۔

  • ▪️صفت کی قسمیں پانچ قسمیں ہیں۔
  • (1) صفت ذاتی
  • (2) صفت نسبتی
  • (3) صفت عددی
  • (4) صفت مقداری
  • (5) صفت ضمیری

▪️صفت ذاتی:

وہ صفت ہے جس سے چیز یا شخص کی کا پتہ چلے۔ اسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔
مثال:- بھاری، نرم، سرخ، کھلاڑی، شریف، بدذات، لالچی،وغیرہ ۔

▪️صفت نسبتی:

وہ صفت جس میں نسبت تعلق ظاہر ہو ۔ اسے صفت نسبتی کہتے ہیں۔
مثال:عربی، فارسی، ہندوستانی، جےپوری، مردانہ، سنہرا، وغیرہ ۔

▪️صفت عددی:

وہ صفت ہے جس میں اسم کی تعداد معلوم ہو ۔ اسے صفت عددی کہتے ہیں۔
مثال: چند لوگ، دو تین، ساتواں، دوہرا، تھوڑا، بہت آدمی، چوتھائی، وغیرہ ۔

▪️صفت مقداری:

وہ صفت ہے جس میں ناپ تول یا کسی چیز کی مقدار معلوم ہو ۔ اسے صفت مقداری کہتے ہیں۔
مثال:- تھوڑا دودھ، پانچ گز کپڑا، سیر بھر آٹا، وغیرہ ۔

▪️صفت ضمیری:

وہ ضمیر ہے جو صفت کا کام دیتی ہے ۔ اسے صفت ضمیری کہتے ہیں۔
مثال: وہ شخص آیا تھا، کیا چیز گر گئی، وغیرہ ۔

تحریر ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement