Advertisement

اس نظم کو کہتے ہیں جس کے ہر بند میں آٹھ مصرعے ھوں پہلے بند کے تمام مصرعوں کا ہم قافیہ یا ہم قافیہ و ہم ردیف ہونا ضروری ہے پہلے بند کے بعد کے ہر بند کے پہلے سات اور بعض صورتوں میں چھ مصرعے الگ قافیے میں ہوتے ہیں اور آخر کا ایک یا دو مصرعے پہلے بند کے قافیہ و ردیف کے پابند ہوتے ہیں . اس طرح ..

Advertisement

اے چارہ گر آ چک کہ دمِ چارہ گری ہے
میں جان سے جاتا ہوں ، تجھے بے خبری ہے
کیوں پہلے ہی درماں سے یقین بے اثری ہے
اپنی سی تو کر دیکھ عبث نسخہ دری ہے
ہو جاؤں میں جاں بر تو تری نام دری ہے
یوں دعوی بے صرفہ تو بیہودہ سری ہے

Advertisement

گر ہم سے مریضوں کی دوا ہووے تو جانیں
بیمارِ محبّت کو شفا ہووے تو جانیں .
……

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement