Advertisement

ایسے کچھ اشعار کا مجموعہ جن میں کوئی خیال تسلسل کے ساتھ پیش کیا جاۓ قطعہ کہلاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ غزل اور قصیدے کی طرح قطعے کا پہلا شعر مطلع ہو۔ قطعے میں دو یا دو سے زیادہ اشعار ہو سکتے ہیں لیکن اس کے اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔
قطعہ اور غزلِ مسلسل کو ایک ہی چیز سمجھنا غلط ہے۔ غزلِ مسلسل میں مطلع ہونا ضروری ہے۔ دوسرا یہ کہ غزلِ مسلسل کے اشعار میں تسلسل کے باوجود ہر شعر کا مضمون کسی نہ کسی درجے میں مکمل ہو جاتا ہے جب کہ قطعے میں مضمون ایک شعر سے دوسرے شعر میں پیوست ہوتا چلا جاتا ہے۔ جیسے غالبؔ کا قطعہ ۔۔۔

Advertisement

اے تازہ وار دانِ بساط ہواۓ دل
ہماری شاعری میں قطعہ کافی مقبول رہا ہے اور بہت سے شعراء نے کامیاب قطعات کہے ہیں۔ ان میں حالیؔ ، اقبالؔ، اکبرؔ، شبلیؔ، ظفر علی خان اور عہد حاضر میں اخترؔ انصاری بہت اہم ہیں۔

Advertisement

اقبالؔ کا مشہور قطعہ ہے۔

Advertisement

دلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نانِ جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوۓ حیدر بھی عطا کر

Advertisement

Advertisement

Advertisement