وہ نظم جس میں مسلسل چھ سے آٹھ شعر ہوتے ہیں ترکیب بند کہلاتی ہے۔ساتویں یا آٹھویں شعر کے دو مصرعے گرہ کے طور پر علیحدہ قافیہ کے لکھے جاتے ہیں جبکہ ہر بند کے قافیہ و ردیف مختلف ہوتے ہیں۔ نمونے کے طور پر علامہ اقبال کی نظم "طلوع اسلام” سے ایک بند پیش خدمت ہے۔

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلمان کی
ستارے جن کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تیری نسبت ابراہیمی ہے معمار جہاں تو ہے!
تری فطرت امیں ہے، ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے!
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
بنوت ساتھ جس کو لے گئی، وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

یا

ترکیب بند کی تعریف

نظم مختلف بندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور یہ چھے مصرعوں کا بند ہوتا ہے۔ بند کے پہلے چار مصرعے ہم ردیف اور ہم قافیہ ہوتے ہیں اور بعد کے شعر میں مختلف قافیے لائے جاتے ہیں۔ اس کو میپ کا شعر کہتے ہیں۔ اس طرح اس کا ایک بند مکمل ہوتا ہے۔ باقی کے بند بھی اسی اصول پر ترتیب پاتے ہیں۔ ترکیب بند میں بندوں کی تعداد مقرر نہیں ہے۔ حالی نے غالب کا مرثیہ ترکیب بند کی ہیئت میں لکھا تھا۔