ایک ایسی نظم جس کا ہر بند تین مصرعوں پر مشتمل ہو مثلث کہلاتی ہے۔ اس کے پہلے بند کے تینوں مصرعے ہم قافیہ (یا ہم قافیہ و ہم ردیف ) ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہر بند کے پہلے دو مصرعے کسی اور قافیے میں ہوتے ہیں لیکن ہر بند کا تیسرا مصرع پہلے بند کے قافیہ کا پابند ہوتا ہے۔ ایک مثلث کے دو بند یہاں مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

شفق کی چھاؤں میں چرواہا جب بنسی بجاتا ہے
تصور میں مرے ماضی کے نقشے کھینچ لاتا ہے
نظر میں ایک بھولا بسرا عالم لہلہاتا ہے
مرے افکارِ طفلی کو ہے نسبت اس کے نغموں سے
میں بچپن میں کیا کرتا تھا الفت اس کے نغموں سے
جبھی بنسی کی لے میں عہدِ طفلی جھلملاتا ہے

یا

مثلث کی تعریف

یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی تین کے ہیں۔ اس میں ہر بند تین مصرعوں سے مکمل ہوتا ہے۔ پہلے بند کے تینوں مصرعوں کا قافیہ ایک ہوتا ہے۔ باقی کے بندوں میں پہلے دو مصرعوں کا قافیہ ایک جیسا اور تیسرے مصرعے کا قافیہ پہلے بند کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ اختر شیرانی کی نظم چرواہے کی جنسی اس ہیئت کی مثال ہے۔

Advertisement