شہر آشوب اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی دور کے مصائب یا کسی شہر پر نازل ہونے والی آفات کا ذکر ہو۔ اس میں عموماً زمانے کی نیرنگی، حالات کی ابتری، اہل کمال کی ناقدری اور امرا کی بے زری کا ذکر ہوتا ہے۔اردو شاعری میں اس صنف کا خاصا رواج رہا ہے۔ جعفرزٹلی، شاکر ناجی، میر اور سودا نے بہت عمدہ شہر آشوب کہے ہیں جن سے ان کے عہد کے حالات آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔خاص طور پر سودا کو اس صنف میں حد کمال حاصل تھا۔ سودا سپاہیوں کی بزدلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں؀

پڑے جو کام انہیں تب نکل کے کھائی سے
رکھیں وہ فوج جو موتی پھرے لڑائی سے
پیادے ہیں سو ڈریں سرمنڈاتے نائی سے
سوار گر پڑیں سوتے ہیں چارپائی سے

یا

شہر آشوب:

کسی شہر بستی یا ملک میں رونما ہونے والے فتنہ و فساد یا طوائف الملو کی جیسے حالات سے پیدا ہونے والی مصیبتوں اور مسائل کے ذکر پر مشتمل نظم کو شہر آشوب کہتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی ہیئت متعین نہیں ہے۔

اردو میں شاہ حاتم کو شہر آشوب کا پہلا شاعر قرار دیا جا تا ہے۔ حاتم کے معاصر شاکر ناجی نے بھی ٹنس کی ہیئت میں شہر آشوب کہے ہیں۔سودا کے شہر آشوب شمس کی شکل میں ہیں۔ انھوں نے دہلی کی تباہی کو موضوع بنایا ہے۔ میر تقی میر نے لشکر کی ہجو اور سپاہیوں کی مفلسی کو موضوع بنایا۔ قائم چاند پوری، نظیر اکبرآبادی، برق لکھنوی، رائخ عظیم آبادی اور صفی لکھنوی نے بھی شہر آشوب کہے ہیں۔

شہر آشوب کے عمومی موضوعات نظموں میں جابجا ملتے ہیں ۔لیکن باقاعدہ طور پر بہ حیثیت ایک صنف کے شہر آشوب اب کم ہی لکھے جاتے ہیں۔ جدید دور میں خلیل الرحمن اعظمی اور شمس الرحمن فاروقی نے نئے طرز کے شہر آشوب لکھے ہیں ۔ نظیر اکبر آبادی کے شہر آشوب سے ایک مثال دیکھیے :

اب آ گرے میں جتنے ہیں ،سب لوگ ہیں تباہ
آ تا نظر کسی کا نہیں ایک دم نباہ
ما نگو عز یز ! ایسے برے وقت سے پناہ
وہ لوگ ایک کوڑی کے محتاج اب ہیں ، آہ
کسب و ہنر کے یاد ہیں جن کو ہزار بند
جتنے ہیں آج آگرے میں کا رخانہ جات
سب پر پڑی ہیں آن کے روزی کی مشکلات
کس کس کے دکھ کو رویئے اور کس کی کہیے بات
روزی کے اب درخت کا ہلتا نہیں ہے پات
ایسی ہوا کچھ آ کے ہوئی ایک بار بند