Advertisement

ریختی اردو کی وہ صنف شاعری ہے جس میں عورتوں کے جذبات کا اظہار خود عورتوں کی زبان سے ہوتا ہے۔انشا اور رنگین اس صنف کے موجد ہیں۔ آگے چل کر مرزا مظہر جان جاناں صاحب نے بھی اس کے ذخیرے میں بہت اضافہ کیا۔ریختی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن اس سے اردو شاعری میں یہ اضافہ ہوا کہ صنف نازک یعنی عورتوں کے جذبات کی ترجمانی انہی کی زبان میں کی جاسکی۔

Advertisement

مثال کے طور پر ریختی کا ایک شعر پیش کیا جاتا ہے؀

Advertisement

مجھے کہتی ہیں باجی تو نے تاکا اپنے دیور کو
نہیں دنبے کی میں بھی گر نہیں تاکا تو اب تاکا

Advertisement



Advertisement

Advertisement

Advertisement