منقبت شاعری کی ایک ایسی صنف کو کہا جاتا ہے جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہ اور دیگر ائمہ کرام کی مدح کی جائے لیکن اردو میں خلفائے راشدین اور دیگر بزرگانِ دین کی مدح میں بھی منقبتیں کہی گئی ہیں۔اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ منقبت ایسی صنف کو کہا جاتا ہے جس میں بزرگان دین اور اصحابِ رسولﷺ کی مدح یعنی تعریف کی گئی ہو۔منقبت کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔

علی دین و دنیا کا سردار ہے
کہ مختار کے گھر کا مختار ہے
دیار امامت کے گلشن کا گل
بہار ولایت کا باغ سبل

یا

منقبت کی تعریف اور مختصر روایت

منقبت ایک ایسی نظم ہے جس میں صحابہ کرام، خلفائے راشدین، بزرگان دین ، صوفیائے کرام وغیرہ کے نمایاں اوصاف کا بیان والہانہ ذوق وشوق اور عقیدت ومحبت کے ساتھ کیا جا تا ہے۔ منقبت کے لیے ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔ بڑے شعرا نے اکثر اسے قصیدے کی ہیئت میں نظم کیا ہے۔

سودا کے قصائد میں منقبتوں کی بڑی تعداد ہے۔مومن کے قصائد میں نعتیہ قصیدے کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی ، حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین کی منظمیں اعلی درجے کی ہیں۔ ان میں حسن عقیدت بھی ہے اور جوش محبت بھی۔ غالب کے قصائد میں حضرت علی کی منقبت قابل ذکر ہے‌۔ منقبت کی مثال دیکھیے:

علی دین و دنیا کا سردار ہے
کہ مختار ہے گھر کا مختار ہے
دیار امامت کے گلشن کا گل
بہار ولایت کا باغ سبل
علی، راز دار خدا و نبی
خبر دار سر خفی و جلی
علی، بنده خاص درگاه حق
علی سالک و راہ رو راه حق
سلام أن پہ جو ان کے اصحاب ہیں
وہ اصحاب کیسے کہ احباب ہیں
خدا ان سے راضی، رسول ان سے خوش
على أن س راضی، بتول ان سے خوش
ہوئی فرض ان کی ہمیں دوستی
کہ ہیں دل سے وہ جاں نثار نبی
از مثنوی سحر البیان (میر حسن)