Advertisement

خود پر بیتے ہوئے حالات کے ذکر کو آپ بیتی کہتے ہیں۔بن باس کی زندگی، قید کے حالات، نظربندی کے دور کے حالات اور واقعات کا ذکر بھی آپ بیتی کے ذریعے ممکن ہے۔

Advertisement

فنی اعتبار سے آپ بیتی ایک ایسی تحریر ہے جس میں خود پر گزرے ہوئے اچھے اور برے حالات کے علاوہ صدمات اور تاثرات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔آپ بیتی لکھنے والے اپنے حالات اور دلچسپ واقعات کے تانے بانے میں تاثرات کو گوندھ کر خود نوشت کا مواد تیار کرتے ہیں گویا کہ آپ بیتی میں نہ قصہ کہانی کا ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی فرضی واقعات کا بیان ممکن ہے۔

اردو نثر میں آپ بیتی ایک ایسی صنف ہے جو ہر دور میں رائج رہی اور آج بھی اس کا سلسلہ دراز ہے۔ 1857ء کے غدر کے دوران ہندوستان کے باشندوں پر جو مصائب گزرے انہیں آپ بیتی کی صورت میں بیان کیا گیا۔ علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے "جزیرہ انڈومان” (کالا پانی) میں رہتے ہوئے "الثورۃالھندیہ”(باغی ہندوستان) تحریر کی جو انقلاب آزادی کا ایک مستند ترین ماخذ ہے۔

Advertisement

الثورۃ الھندیہ” اور "قصائد فتنۃ الہند” منظوم کو علامہ خیر آبادی نے قید تنہائی سے 1860ء میں بذریعہ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوری اپنے فرزند مولانا عبدالحق خیرآبادی کے پاس کوئلہ اور پنسل سے کپڑا وغیرہ لکھ کر تمام بھیجا تھا۔اس کتاب پر مولانا ابو کلام آزاد نے تعارف لکھا اور مولانا محمد عبد الشاہد خان شیر وانی نے 1946ء کو ترجمہ کر کے شائع کیا۔ محمد جعفر تھانیسری کی کتاب "کالا پانی” کو اردو کی اولین آپ بیتی کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement