ایسی نظم جس کے ہر بند میں چار مصرعے ہوں مربع کہلاتی ہے۔ مربع میں عموماً پہلے بند کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تین مصرعوں میں جدا گانہ قافیہ ہوتا ہے۔ چوتھے مصرعے میں پہلے بند کے قافیے کی پابندی کی جاتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلے بند کا آخری مصرعہ بلکل اسی طرح ہر بند کے آخر میں دہرایا جاتا ہے لیکن قافیے کے معاملے میں مربع لکھنے والے شاعروں نے کسی اصول کی سختی کے ساتھ پابندی نہیں کی۔

مربع میں بھی چار مصرعے ہوتے ہیں اور رباعی میں بھی، لیکن دونوں میں کچھ نمایاں فرق ہے۔ مثلاً پہلا فرق یہ ہے کہ رباعی میں تیسرے اور مربع میں چوتھے مصرعے کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔ مربع کے پہلے بند کے چاروں مصرعے بلعموم ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ دوسرا فرق یہ کہ رباعی کے بر خلاف اس کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں۔

مربع کی ایک مثال درج ذیل ہے؀

مرثیہ ایسا ہے تو نے یہ کہا
جس سے حاصل ہو دو جگ کا مرتبہ
ہے یقین دل پر مرے روز جزا
تجھ کو بخشا دیں گے شاہ تاجدار

یا

مربع کی تعریف

یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی چار کے ہیں۔ اس ہیئت کے ہر بند میں چار چار مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے بند کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور بعد کے بندوں کے ابتدائی تین مصرعوں کا قافیہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ چوتھے مصرعے کا قافیہ پہلے بند کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ سودا کے بہت سے مرثیے مربع کی شکل میں ہیں۔