حمد وہ اشعار یا وہ نظم ہے جس میں خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا یعنی تعریف و توصیف کی جائے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔پرانے زمانے میں مثنویوں کا آغاز عام طور پر حمد سے ہوا کرتا تھا لیکن آج ہماری زبان میں مستقل حمدیہ نظمیں موجود ہیں۔ حمد کا ایک شعر مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس سے آپ حمد کا معنی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں؀

کروں پہلے توحید یزداں رقم
جھکا جس کے سجدے کو اول قلم

یا

حمد کی تعریف

حمد میں اللہ کی تعریف، توصیف اور عظمت بیان کی جاتی ہے۔ حمد کے لیے ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔ بیشتر شعرا کے کلام کے مجموعوں کا آغاز حمد کے اشعار ہی سے ہوتا ہے۔

اردو شاعری کی تاریخ میں حمد کا آغاز دکن سے ہوتا ہے۔ بعد میں تقریباً تمام شعرا نے حمدیہ نظمیں لکھی ہیں۔ عصر حاضر کے شعرا نے بھی حمد گوئی پر خصوصی توجہ دی ہے۔مناجات بھی حمد ہی کا حصہ ہے۔ اردو میں مناجاتی شاعری سے مراد ہے ذات باری تعالی کے حضور بندے کی عرض داشت اور التجا اور اس کے حضور اپنی خواہش، تمنا اور دعا کا اظہار کرنا۔

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
(خواجہ میر درد)
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے
زباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے
(خواجہ میر درد)
تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
(خواجہ میر درد)
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے
(خواجہ میر درد)