• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر02: کہانی
  • مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
  • سبق کا نام: ایک مزے دار کہانی

خلاصہ سبق

یہ سبق ایک مزے دار کہانی بطور کہانی مرزا فرحت اللہ بیگ کا تخلیق کردہ ہے جس میں مصنف نے کہانی کے انداز میں ہندوستان کے کئی موسموں کی خصوصیات کو اجاگر کیا ہے کہ ایک مرتبہ جاڑا گرمی اور برسات کا اس بات پر جھگڑا ہوا کہ ان میں سے زیادہ اچھا کون ہے۔جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ چل کر کسی آدم زاد سے پوچھ لیا جائے کہ کون زیادہ اچھا ہے۔

وہ تینوں جنگل میں موجود ایک بڑھیا کے پاس جا پہنچے۔ سب سے پہلے جاڑا بڑھیا کے سا منے آیا اسے کپکی طاری ہوئی۔ جاڑے نے بڑھیا سے اپنے بارے میں دریافت کیا تو بڑی بی نے کہا : ” بیٹا! جاڑے کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! مہاوٹ برس رہی ہے۔ دالانوں کے پردے پڑے ہیں۔ انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں ، لحافوں میں دبکے پڑے ہیں۔ چائے بن رہی ہے۔خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پلا رہے ہیں۔ صبح ہوئی اور چنے والا آیا، گرم گرم پنے لیے۔طرح طرح کے میوے آ رہے ہیں۔سب مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ حلوہ سوہن بن رہا ہے۔ باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے۔ اس کی کھیر پک رہی ہے۔ ادھر کھایا ادھر ہضم۔ خون چلو ؤں بڑھ رہا ہے۔ چہرے سُرخ ہو رہے ہیں۔ بیٹا جاڑا، جاڑے کا کیا کہنا،سبحان اللہ! جاڑے نے بڑی بی کو ایک ہزار اشرفی دی۔

اسی طرح گرمی نے بھی پوچھا تو بڑی بی نے گرمی کے بارے کہا کہ بیٹا گرمی ، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! دن کا وقت ہے۔ خس خانوں میں پڑے ہیں۔ پچھے جھلے جا رہے ہیں۔ برف کی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں۔ فصل کے میوے آ رہے ہیں۔ پہلی پہلی کڑیاں ہیں۔ شام کو اُٹھے، نہائے دھوئے ،سفید کپڑے پہنے نحس کا عطر ملا۔ صحن میں مچھر کاؤ ہو گیا ہے۔ گھڑونچوں پر کورے کورے مٹکے رکھے ہیں۔

رات ہوئی کوٹھوں پر پلنگ بچھ گئے۔ بیٹا! گرمی کا کیا کہنا۔سبحان اللہ! اس کے بعد برسات چھم چھم کرتی آئی تو بڑی بی نے اس کی بھی تعریف کی یوں یہ دونوں بھی بڑھیا کو ایک ایک ہزار اشرفیاں دے کر گئیں۔ جس سے بڑی بی کے گھر میں چہل پہل ہوئی جس کا اس کی پڑوسن جو معلوم ہوا تو اس نے اس چہل پہل کی وجہ معلوم کی اور پھر گھر سے لڑ کر خود بھی جنگل میں جا بیٹھی۔ وہی جاڑا گرمی اور برسات اس بڑھیا کے پاس اپنا فیصلہ کروانے آئے تو۔

یہ بڑھیا ان سے یوں مخاطب ہوئی کہ بڑی بی نے جاڑے سے کہا کہ ” اس بڑھاپے میں بھی آپ اپنی تعریف چاہتے ہیں؟ لو اپنی تعریف سنو ! آپ آۓ اس کو فالج ہوا، اس کو لقوہ ہوا۔ ہاتھ پاؤں پھٹے جا رہے ہیں ۔ ناک سر شیر بہہ رہی ہے۔ دانت ہیں کہ کڑ کڑ بج رہے ہیں ۔ کپڑے ادھر پہنے ادھر میلے ہوۓ ۔ لحاف ذرا کھلا اور ہوا سر سے گھسی ۔ بچھو نے برف ہور ہے ہیں تو بہ توبہ! آگ کی بھی گرمی جاتی رہتی ہے۔ جبکہ بڑھیا نے برسات میں بجلی کی چمک۔

بادل کی گرج جو کلیجہ ہلا جا تا ہے۔ دھما دھم کی آواز ذرا پاؤں باہر رکھا اور چھینٹے سر سے اوپر ہو گئے ۔ ذرا تیز چلے اور جوتیاں کیچڑ میں پھنس کر رہ گئیں۔ رات کو مچھر ہیں کہ ستائے جا رہے ہیں ۔ نہ رات کو نیند ، نہ دن کو چین وغیرہ کو نا پسند کیا۔ اور یہی سلقک اس نے گرمی کے ساتھ بھی کیا تو اس بڑھیا کا انجام یہ ہوا کہ برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اور بڑی بی کے پاؤں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی اور بی برسات بڑھیا کولنگڑا کر ، منہ پر تھوک کر رخصت ہوئیں۔ یوں اس کہانی سے مصنف نے سبق دیا کہ اللہ بھی ہر حال میں خوش رہنے والوں اور خوش مزاج لوگوں پر ہی مہربان ہوتا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟

جاڑا گرمی اور برسات کا اس بات پر جھگڑا ہوا کہ ان میں سے زیادہ اچھا کون ہے۔

جھگڑے کوختم کرنے کے لیے انھوں نے کیا کیا؟

جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ چل کر کسی آدم زاد سے پوچھ لیا جائے کہ کون زیادہ اچھا ہے۔

جاڑے کی کن خوبیوں کو بڑی بی نے بیان کیا؟

بڑی بی نے کہا : ” بیٹا! جاڑے کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! مہاوٹ برس رہی ہے۔ دالانوں کے پردے پڑے ہیں ۔ انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں ، لحافوں میں دبکے پڑے ہیں ۔ چائے بن رہی ہے۔خود پی رہے ہیں، دوسروں کو پلا رہے ہیں ۔ صبح ہوئی اور چنے والا آیا، گرم گرم پنے لیے۔طرح طرح کے میوے آ رہے ہیں۔ سب مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ حلوہ سوہن بن رہا ہے۔ باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے۔ اس کی کھیر پک رہی ہے۔ ادھر کھایا ادھر ہضم ۔ خون چلو ؤں بڑھ رہا ہے۔ چہرے سُرخ ہو رہے ہیں ۔ بیٹا جاڑا، جاڑے کا کیا کہنا،سبحان اللہ!

گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟

بڑی بی نے گرمی کے بارے کہا کہ بیٹا گرمی ، گرمی کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ! دن کا وقت ہے ۔ خس خانوں میں پڑے ہیں۔ پچھے جھلے جا رہے ہیں۔ برف کی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں۔ فصل کے میوے آ رہے ہیں۔ پہلی پہلی کڑیاں ہیں۔ شام کو اُٹھے، نہاۓ دھوۓ ،سفید کپڑے پہنے نحس کا عطر ملا۔ صحن میں مچھر کاؤ ہو گیا ہے ۔ گھڑونچوں پر کورے کورے مٹکے رکھے ہیں ۔ رات ہوئی کوٹھوں پر پلنگ بچھ گئے ۔ بیٹا! گرمی کا کیا کہنا۔سبحان اللہ!

مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟

مصنف نے برسات کا حلیہ یوں بیان کیا کہ برسات خانم چھم چھم کرتی پہنچیں ۔ سانولا نمکین چہرہ، چمکدار روشن آنکھیں ، بھورے بال ۔ان میں سے پانی کی بار یک بار یک بوند میں اس طرح ٹپک رہی تھیں جیسے موتی ۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں ۔ غرض ان کے آتے ہی برکھا رت چھا گئی۔ انھوں نے بڑھ کر کہا: ” اماں جان سلام !‘

بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟

بڑی بی نے گرمی ،جاڑے اور برسات تینوں کی تعریف کرکے نا کو خوش کیا اس لیے اسے نذر کی تھیلیاں ملی تھیں۔
بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر بڑی بی کے گھر میں چہل پہل کا پڑوسن جو معلوم ہوا تو اس نے اس چہل پہل کی وجہ معلوم کی اور پھر گھر سے لڑ کر خود بھی جنگل میں جا بیٹھی۔

بد زبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟

بڑی بی نے جاڑے سے کہا کہ ” اس بڑھاپے میں بھی آپ اپنی تعریف چاہتے ہیں؟ لو اپنی تعریف سنو ! آپ آۓ اس کو فالج ہوا، اس کو لقوہ ہوا۔ ہاتھ پاؤں پھٹے جا رہے ہیں ۔ ناک سر شیر بہہ رہی ہے۔ دانت ہیں کہ کڑ کڑ بج رہے ہیں ۔ کپڑے ادھر پہنے ادھر میلے ہوۓ ۔ لحاف ذرا کھلا اور ہوا سر سے گھسی ۔ بچھو نے برف ہور ہے ہیں تو بہ توبہ! آگ کی بھی گرمی جاتی رہتی ہے۔

برسات کی کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا؟

بڑھیا نے برسات میں بجلی کی چمک۔ بادل کی گرج جو کلیجہ ہلا جا تا ہے۔ دھما دھم کی آواز ذرا پاؤں باہر رکھا اور چھینٹے سر سے اوپر ہو گئے ۔ ذرا تیز چلے اور جوتیاں کیچڑ میں پھنس کر رہ گئیں۔ رات کو مچھر ہیں کہ ستائے جا رہے ہیں ۔ نہ رات کو نیند ، نہ دن کو چین وغیرہ کو نا پسند کیا۔

بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیا تھا؟

بی برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اور بڑی بی کے پاؤں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی اور بی برسات بڑھیا کولنگڑا کر ، منہ پر تھوک کر رخصت ہوئیں۔

خالی جگہ کو صحیح لفظوں سے بھریے:

  • انھی دنوں جاڑے گرمیاور برسات کے درمیان جھگڑا ہوا۔
  • باجرے کا ملیدہ بن رہا ہے رس کی کھیر پک رہی ہے۔
  • میاں جاڑے اپنی تعریفیں سن سن پھولے نہ سماتے تھے۔
  • نانی جان ! خدا تمھارا بھلا کرے تم نے آج عزت رکھ لی۔
  • مینہ چھم چھم برس رہا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

صلاح ہمیں کوئی بھی قدم بڑوں کی صلاح کے بغیر نہیں اٹھانا چاہیے۔
تصفیہ عدالت کا کام لوگوں کے لڑائی جھگڑوں کا تصفیہ کرنا ہوتا ہے۔
بیاباںمجنوں نے دیوانگی میں بیاباں کا رخ کیا۔
آدم نہ آدم زادجنگل میں نہ آدم نہ آدم زاد دکھائی دیا۔
ملہارساون کے آغاز کے ساتھ ہی ملہار کی گونج سنائی دینے لگی۔

نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کر کے لکھیے:

واحد تعریف ،اشرفی، گھٹا ،فاصلہ، مہاوٹ۔
جمع بچے،قلفیاں، چوڑیاں،

محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

محاورےمعنیجملے
تھر تھر کانپنابہت زیادہ ڈر جاناغلطی کرنے کے بعد بچہ مار کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
پھولے نہ سمانابہت خوش ہوناامتحان میں اول پوزیشن حاصل ہونے پر علی کے والدین مارے خوشی کے پھولے نہ سماتے تھے۔
نہال ہوناسرشار ہونامن پسند چیز پاکر بچہ خوشی سے نہال دکھائی دینے لگا۔
جی بیزار ہونااکتا جانا ایک طرح کے معمولات زندگی سے انسان جلد اکتا جاتا ہے۔
آگ بگولا ہونابہت زیادہ غصہ ہوناپیٹرول کی قیمت میں اضافے سے عوام آگ بگولا ہو گئی۔
کلیجہ دہلنابہت زیادہ خوف کھاناعلی کی نا گہانی موت سے سب کا کلیجہ دہل کے رہ گیا۔
پاؤں چاٹناچا پلوسی کرنابعض انسانوں کی فطرت میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے دوسروں کے پاؤں چاٹنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

عملی کام: ہندوستانی موسم جاڑا ،گرمی اور برسات کی خو بیاں بیان کیجیے۔

ہندوستان کا ہر موسم الگ خصوصیات لیے ہوئے ہوتا ہے ھاڑے کے موسم میں جہاں لوگ دھوپ کی تمازت، سردیوں کے مختلف نوعیت کے پکوانوں اور دیگر موسمی اشیاء سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس موسم کا خصوصی پھل کینو اور مالٹا اس موسم کے لطف کو دوبالا کرتا ہے۔ گرمی میں گرمی کی شدت تو اکثر علاقوں میں ناقابل برداشت ہوتی ہے مگر یہ موسم بھی کئی طرح کے پھلوں اور سبزیوں کی کشش لیے ہوتا ہے اور اس موسم میں عموماً لوگوں کو سیر وتفریح کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اسی طرح برسات کا۔موسم جہان بارش اور بارش کے موسم کے پکوانوں کا لطف لیے ہوتا ہے وہیں اس موسم میں ہونے والی بارشیں ہندوستان کے زرعی شعبے میں بھی مفید ثابت ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ہندوستان کا ہر موسم اپنے اندر انفرادیت لیے ہوئے ہے۔