Advertisement
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

حوالہ: یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور سبق غزل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام شیخ محمد ابراہیم ذوق ہے۔

Advertisement

تشریح : ذوق اس شعر میں کہتے ہیں کہ ہمیں زندگی اس دنیا میں لے کر آئی اور موت اس دنیا سے لے کر چلی گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نہ تو اپنی خوشی سے اس دنیا میں آئے تھے اور نہ اپنی خوشی سے اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔

Advertisement
ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے بہ وقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں، ابھی آۓ، ابھی چلے

حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور سبق غزل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام شیخ محمد ابراہیم ذوق ہے۔

Advertisement

تشریح : ذوق کہتے ہیں کہ ہمیں خضر کی طرح بہت لمبی عمر بھی مل جائے تو بھی موت کے وقت ہم یہی کہیں گے کہ ابھی تو ہم اس دنیا میں آئے تھے اور ابھی سے اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ یعنی اس دنیا میں ہم بس نام کے لیے ہی رہے۔

ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بُری چلے

حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور سبق غزل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام شیخ محمد ابراہیم ذوق ہے۔

Advertisement

تشریح : زوق کہتے ہیں کہ ہماری طرح اناڑی (جواری) بھی اس دنیا کے میدان میں کم ہی ہوں گے کیونکہ ہم نے یہاں جو بھی چال چلی وہ ناکام ثابت ہوئی۔ کسی بھی چال میں ہمیں کامیابی نہیں ملی۔

بہتر تو یہی ہے کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں، جو کام نہ بے دل لگی لگے

حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور سبق غزل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام شیخ محمد ابراہیم ذوق ہے۔

Advertisement

تشریح : ذوق کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ ہمارا دل اس دنیا میں نہ لگے۔ لیکن کیا کریں کہ دنیا سے دل لگائے بغیر کام بھی نہیں چل سکتا ہے۔

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی
دانش تری، نہ کچھ مری دانشوری چلے

حوالہ : یہ غزل ہماری کتاب میں شامل ہے اور سبق غزل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام شیخ محمد ابراہیم ذوق ہے۔

Advertisement

تشریح : ذوق کہتے ہیں کہ اے آدمی تو اپنی سمجھداری پہ غرور مت کر، کیونکہ سچ بات یہ ہے کہ یہ دنیا میں نہ تو میری دانشوری چل سکتی ہے اور نہ کہیں تیری سمجھداری کام آ سکتی ہے۔ یعنی ہم کتنی ہی ہوشیاری کرلیں، آخر کار وہی ہوگا جو خدا کو منظور ہوگا۔

⭕️ غور کیجئے:

شاعری میں زیادہ تر قافیہ کا استعمال ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق قافیہ کے بعد ردیف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اس غزل کے مطلع (پہلے شعر) کے دونوں مصرعوں کے آخر میں اور ہر شعر کے دوسرے مصرعے کے آخر میں لفظ ‘چلے’ استعمال ہوا ہے۔ اس کو ردیف کہتے ہیں اور ردیف سے پہلے چلی، خوشی، ابھی، بُری، دلگی اور دانشوری الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یہ سب الفاظ کافیہ ہیں۔

Advertisement

⭕️ سوالات و جوابات

سوال 1 : پہلے شعر میں شاعر کیا بات کہنا چاہتا ہے؟

جواب : شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ نہ ہم اس دنیا میں اپنی خوشی سے آئے تھے اور نہ ہم اپنی خوشی سے جا رہے ہیں۔ بس زندگی لائی تھی تو آگئے، اور موت لے جارہی ہے تو جا رہے ہیں۔

سوال 2 : ابھی آئے، ابھی چلے، سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب : شاعر کی مراد یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں بہت ہی کم رُوک سکے۔

Advertisement

سوال 3 : دنیا سے دل لگانے کے کیا معنی ہیں؟

جواب : دنیا سے دل لگانے کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں اس طرح کھو جانا کہ دوسری باتوں اور کاموں کا کچھ خیال ہی نہ رہے۔

سوال 4 : شاعر نے عقل پر فخر کرنے سے کیوں منع کیا ہے؟

جواب : شاعر نے عقل پر فخر کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ اس دنیا میں ہماری عقل کی نہیں چلتی، آخر وہی ہوتا ہے جو خدا کو منظور ہوتا ہے۔

Advertisement

⭕️ نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

الفاظمتضاد
حیات موت
خوشیغم
بہتر بدتر
مرگ زندگی
بُری اچھی

⭕️شیخ محمد ابراہیم ذوق کی حالات زندگی تحریر کریں۔

  • اصل نام : شیخ محمد ابراہیم ذوق
  • تخلص : ذوق
  • پیدائش : 1788ء دہلی میں پیدا ہوے۔
  • وفات : 1854ء میں ان کا انتقال ہوا۔
  • شیخ محمد ابراہیم ذوق 1788 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ذوق ان کا تخلص ہے۔ انہوں نے باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہیں کی تھی، مگر اپنی قابلیت اور ذہانت سے اعلیٰ درجے کے شاعر بن گئے۔ وہ خود شاہ نصیر کے شاگرد ہوئے اور آگے چل کر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد بھی رہے۔ انہوں نے طرح طرح کی شاعری کی ہے۔ مگر سب سے زیادہ شہرت قصیدہ نگاری میں حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے غزل میں بلند مقام حاصل کیا۔ بہادر شاہ ظفر نے انہیں ملک الشعراء اور خاقانی ہند کا خطاب عطا کیا۔ ان کی زبان میں عربی اور فارسی کے الفاظ بہت ہیں مگر انداز میں روانی ہیں 1854ء عیسوی میں ان کا انتقال ہوا۔
تحریر🔘 ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی🔘
Advertisement

Advertisement

Advertisement