مستزاد کا مطلب ہے زیادہ کرنا یا اضافہ کرنا۔ مستزاد وہ نظم ہوتی ہے جس کے ہر مصرعے کے بعد ایک خاص وزن کا ٹکڑا مزید ہو۔ اس کی دو قسمیں ہیں مستزاد عارض اور مستزاد لازم۔مستزاد عارض وہ ہے کہ جو ٹکڑا زیادہ کیا جاۓ اس کا مضمون شعر کا جزو نہ ہو۔ مستزاد لازم وہ ہے کہ جو ٹکڑا زیادہ کیا جاۓ اس کا مضمون شعر کے مضمون سے پیوست ہو۔ مستزاد کی مثال یہ ہے۔

میں ہوں عاشق .مجھے غم کھانے سے انکار نہیں
کہ ہے غم میری غذا
تو ہے معشوق ۔تجھے غم سے سروکار نہیں
کھاۓ غم تیری بلا

یا

مستزاد کی تعریف

اس کے لغوی معنی ہیں زیادہ کیا گیا۔ اس میں غزل، رباعی یانظم کے مصرعوں کے آخر میں بعض موزوں الفاظ یا فقروں کا اضافہ کر دیا جا تا ہے۔ اس کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے۔ عام طور سے جس بحر میں اشعار ہیں اس بحر سے متصل فقروں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے اس سے انحراف کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ ایک شعر کی مثال دیکھیے:

جادو ہے نگہ، حچب ہے غضب، قہر ہے مکھڑا
غارت گردیں وہ بت کافر ہے سراپا
اور قد ہے قیامت اللہ کی قدرت
(جرات)