اعتماد مت توڑیں

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ (گوجرانوالہ)
  • صنف : کالم
  • عنوان : اعتماد مت توڑیں

امانت اُنہی لوگوں کو دی جاتی ہے جس پر آپ کو اعتماد ہو۔ یاد رکھیں؛ اعتماد اگر کھو جائے تو دوبارہ بحالی ممکن نہیں ہوتی۔ جب بھی کسی کا یقین توڑیں، تو فقط ایک مرتبہ سوچ لیجئے گا، کہ اگر میری وجہ سے وہ دوبارہ کسی پر یقین نہ کر پایا تو؛ اس جملے کو سوچ لینے سے آپ کا ضمیر کبھی بھی یہ گوارہ نہیں کرے گا، کہ آپ کسی کے اعتماد کو ریزہ ریزہ کریں۔

امانت میں خیانت کرنا ایک اچھا عمل نہیں ہے۔ خیانت فقط کسی کی پکڑائی ہوئی بےجان اشیاء میں نہیں ہوتی ہے۔ خیانت تو کسی کی آپ کے ساتھ کی گئی باتوں میں بھی ہوتی ہے۔ دو انسانوں کی باتوں کو اگر کوئی تیسرا جان جائے، تو یہ فعل بانٹنے والے کو ندامت میں مبتلا کر دے گا۔ جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ اُن کا آپ پر اعتماد کرنا ایک غلطی کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی اگر آپ کے سامنے اپنے احساسات کو عیاں کرے تو اسے دوسروں کو بتا کر خیانت کرنے سے بہتر ہے انسان اس کے بہترین کے لیے دعاگو ہو۔

آپ کا اچھا ہونا آپ کے اور سامنے والے کے بہت سے مسائل کو حل کر دیتا ہے۔ لہٰذا آپ اپنا آپ اچھا رکھیں۔ لوگوں کا آپ کے ساتھ رویہ برا ہو تو آپ دنیا کے ساتھ برے مت بنیں، اور نہ ہی کسی کو اپنی ذات سے تکلیف دیں۔ ایک اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیں، کیونکہ ایک اچھا اور خوش نصیب انسان وہی ہوتا ہے جس کے سامنے اپنے دل کی ہر بات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے باآسانی کی جا سکے۔