Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ (گوجرانوالہ)
- عنوان : اٹریکشن کیا ہوتی ہے؟
اٹریکشن کے لیے اردو میں کشش کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ کسی چیز کا یا کسی انسان کا ہمارے قلب کو وقتی طور پر اچھا لگ جانا۔ اٹریکشن کا تعلق ہمارے جذباتی پن سے بھی ہوتا ہے۔ ہمارا دل جذباتی ہو جاتا ہے اور اسے پالینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اٹریکشن عام طور پر اُن چیزوں سے ہوتی ہے جو دیکھنے میں تو اچھی خاصی ہوتی ہیں، لیکن ہر چمکتی چیز سونا تھوڑی ہوتی ہے۔ آپ وقتی طور پر اس چیز کو یا انسان کو حاصل تو کر لیتے ہیں، لیکن بہت جلد آپ کا اس چیز سے یا انسان سے دل بيزار ہوجاتا ہے اور ایسا بیزار ہوتا ہے، کہ آپ اس کو دیکھنے تک کے رواں دار نہیں ہوتے۔
مثال کے طور پر: ہم بازار جاتے ہیں اور ہمیں کوئی چیز پسند آجاتی ہے ہم اسے خریدتے ہیں لیکن ہم اسے حاصل کرلینے کے بعد اس کے لیے وہ جذبات نہیں رکھتے جو اُسے خریدنے سے پہلے ظاہر کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح ہم کسی انسان کو دیکھتے ہیں ہم اس قدر اسے اپنے حواسوں پر سوار کر لیتے ہیں، کہ ہم اسے پالینے کے لیے ہر ممکنہ جدوجہد کرتے ہیں، لیکن حاصل ہوتے ہی اس انسان کو اہمیت دینا تو دور دیکھنا تک پسند نہیں کرتے۔ اور پھر انجام علیحدگی ہوتا ہے۔ دور حاضر میں طلاق کی شرح اسی لیے زیادہ ہے کیونکہ شادیاں صرف اٹریکشن کی بنا پر ہوتی ہیں، سوچ بچار کیے بغیر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ صرف یہ دیکھا جاتا ہے لڑکی حسین ہے، لڑکا گڈ لوکنگ ہے، لڑکے کے پاس پیسہ ہے بس۔
اٹریکشن کی بنا پر بہت سے بےجوڑ کپل وجود میں آتے ہیں۔ آج کل پندرہ، سولہ سال کی لڑکیاں اپنی عمر سے دس دس سال بڑے لڑکوں کے ساتھ چیٹنگ کرتی ہیں صرف اور صرف کشش کی بنا پر۔ لڑکیاں لڑکوں کو کرش بنا لیتی ہیں حالانکہ ہمارے دین میں اس کا کوئی بھی تصور نہیں ہے۔
اٹریکشن کی بنا پر کبھی بھی گھر نہیں بسا کرتے، لیکن یہ بات ہم سب سمجھنے سے قاصر ہے۔ اپنے جذباتوں کو خود تک محدود رکھیں، وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود بہ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کو اپنی ذات پر سوار کرنے کی ہرگز بھی ضرورت نہیں ہے۔ اور خدارا!!! سوچ سمجھ کر فیصلے کیا کریں۔ بہتر ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے والدین سے مشورہ کیا جائے، کیونکہ والدین سے بہتر کوئی بھی ہم سب کو بہترین مشورے سے نہیں نواز سکتا۔