Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم: فاطمہ عطاالمصطفیٰ
- صنف: کالم
- عنوان: والدین کا ساتھ
سب کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے، کہ جو لوگ آپ کے والدین سے کینہ رکھتے ہیں، وہ آپ کے ساتھ ہرگز وفادار نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ آپ کے ساتھ محبت کے دعویدار ہیں، تو فقط اپنے مطلب کے لیے۔ جو لوگ آپ کے والدین کے نہیں بن سکے، وہ آپ کے بھی نہیں بنیں گے۔
زندگی کے کسی مقام پر وہ اپنی اصلیت آپ پر عیاں ضرور کریں گے۔ آپ سب پر واجب ہے، کہ اگر کوئی آپ کے والدین کے ساتھ دغا کر رہا ہے، تو آپ ان سے دوری اختیار کر لیں۔ والدین پہلے، باقی ساری دنیا بعد میں۔ اور اگر اپنے والدین کے لیے پوری دنیا سے بھی لڑنا پڑے لڑنا چاہیے۔ اگر اس لڑائی میں آپ کے نام کے ساتھ بدتمیز ہونے کا لفظ بھی لگ جائے تو کوئی بات نہیں، اپنے والدین کے لیے دنیا کا بدتمیز انسان بننے میں کوئی بھی شرمساری کی بات نہیں ہے، جب والدین اپنی اولاد کے لیے ساری دنیا کی پرواہ کیے بغیر ان کی ہر خواہش پوری کر سکتے ہیں، اپنی ساری صعود والدین اپنی اولاد کی بہترین پرورش میں گزار دیتے ہیں۔
ساری دنیا آپ کے خلاف ہو سکتی ہے، مگر والدین ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ ہوتے، تو اولاد بھی ہر موڑ پر اُن کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ والدین کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہوتا۔ والدین اپنی اولاد کے وجود میں علت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ والدین کے سامنے ہمیشہ مغلوب کا پہلو جھکائے رکھنا ہم پر لازمی و ملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حُسن سلوک پر زور دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر چیز بیان کی گئی ہے، مگر پھر بھی یہ غفلت کی انتہا ہے، کہ والدین کے روبرو دوسروں کو رکھا جائے۔