مکتوب نگاری: ڈاکٹر عافیہ صدیقی

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ
  • صنف: مکتوب نگاری
  • عنوان: ڈاکٹر عافیہ صدیقی
تاریخ: 23ـ اکتوبر 2024ء
محترمہ عافیہ صدیقی صاحبہ!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
اے عزیزه! آپ کی خیر و عافیت کیسے پوچھوں؟
آپ کو پتا ہے؛ آج مجھے رب العالمین کی طرف سے تحفہ ملا ہے۔ وہ تحفہ آپ کو خط لکھنا ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا آپ تک اپنے الفاظ پہنچانے کا موقع ملا ہے، تو میں اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔ مجھے اللہ نے آپ جیسی ہستی کے بارے میں لکھنے کا موقع دیا۔ کیا میں اس قابل ہوں کہ آپ کے لیے کچھ لکھ سکوں؟
صنف آہن! آپ کے لیے خط لکھنے بیٹھی ہوں خط میں کیا لکھوں؟ سمجھ ہی نہیں آرہی۔ الفاظ قلم کا ساتھ ہی نہیں دے رہے۔ بچپن سے آپ کی داستان سن رہی ہوں۔ آپ نے تن تنہا جو تکالیف برداشت کی ہیں۔ میرے الفاظ اُن کا مداوہ نہیں کرسکتے۔
مجھے لگتا تھا، عورت حساس، کمزور، نازک ہوتی ہے، لیکن جب آپ کے بارے میں سوچتی ہوں، میرا دماغ نفی میں جواب دیتا ہے۔ عورت تو بہادر ہوتی ہے۔ آپ وہ خاتون ہیں جسے اتنے غم میں بھی مسکراتا ہی پایا۔ آپ اللہ کی رضا میں راضی رہنے والی خاتون ہیں۔ آپ صبر و استقامت و استقلال و شجاعت کی پیکر ہیں۔ آپ ایک صوفی صفت خاتون ہیں۔ آپ صحابیات کے نقش قدم پر چلی ہیں۔ آپ نے اپنا ضمیر نہیں بیچا بس حق کا ساتھ دیا ہے۔ آپ سچ کا ساتھ دینے کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ بیس سال سے اپنے اہل و عیال، رشتے دار، دوست احباب سب سے دور ہیں۔
آپ کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں؛ “آج کے دور میں کون اپنے وطن کے لیے قربانی دینے کو تیار ہو گا؟” ہماری حکومت نے تو ہمیں بتا دیا سچ کا ساتھ دینے کی سزا ملے گی۔ ہماری حکومت نے ہمیں بے حس بنا دیا۔ اب اگر کوئی سچ کا ساتھ دینے کا سوچے گا، تو آپ کا خیال ضرور آئے گا اگر آپ کی طرح ہمیں بھی اپنوں سے دور رہنا پڑا تو۔ کیونکہ جب جب کوئی عورت اپنے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ وطن عزیز ہی سب سے پہلے اس کے خلاف ہو جاتا ہے۔
صنف آہن! سنا ہے؛ حکومت نے آپ کے لیے ایک خط لکھا ہے۔ آپ کی رہائی کے لیے اپیل کی ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ اپنے وطن آنے کے لیے بے تاب ہیں۔ آپ اپنوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہی ہیں۔ آپ آزاد فضا میں سانس لینے کی خواہش مند ہیں۔ آپ واپس ضرور آئیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔
میں جانتی ہوں کہیں نہ کہیں ہم سب بھی مجرم ہیں۔ کیونکہ دعا کرنا ہمارے اختیار میں ہے، اگر ہم تب ہی آپ کے لیے دعا کرنا شروع کرتے تو شاید اللہ آپ کے لیے تب ہی راستے ہموار کردیتا۔
ہم بےبس ضرور ہیں لیکن ہم سب آپ کے لیے دعاگو ہیں اللہ آپ کو جلد از جلد اس قید سے رہائی فرمائے۔ آپ اپنے وطن واپس آئیں۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
والسلام!
آپ کی منتظر!
فاطمہ عطاالمصطفیٰ