وراثت اور علم

0
  • عنوان : وراثت اور علم
  • صنف: کالم
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالا)

وراثت کا مطلب ہے آباواجداد سے مال اور جائیداد کا ملنا۔ سوال یہ ہے کیا زندگی گزارنے کے لیے فقط ورثے میں مال و دولت کا مل جانا کافی ہے؟
مجھے لگتا ہرگز بھی نہیں۔

اچھی زندگی گزارنے کے لیے عقل وشعور کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب ایک انسان کو اچھے برے کی تمیز کا ہی نہیں پتہ، جب وہ حقیقت کا ادراک کرنا نہیں جانتا، تو یہ ترکہ میں ملی دولت کا کیا فائدہ؟
اگر میراث میں اچھی تعلیم، عمدہ اخلاق، نماز و روزے کی پابندی، حلال و حرام میں فرق، حدود و احکام کی معرفت، اچھے طور طریقے نہ ملیں تو آپ اپنی اگلی نسل کو یہ ترکہ میں دیں۔ یقیناً یہ وراثت دولت و شہرت سے بہتر ہے۔ مال تو آنے جانے والی چیز ہے، لیکن علم اور خصلتیں نسلیں سنوار دیتی ہیں۔

پیغمبروں نے ورثے میں دینار یا درہم نہیں چھوڑے، بلکہ وہ تو علم کو اپنے ترکے میں چھوڑ کر گئے۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے جو کوئی علم کی رسی کو تھام لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “علم کا سیکھنا ہر مومن پر فرض ہے۔”
مال و دولت کبھی بھی ہماری رہنمائی نہیں کر سکتی، ہمیں اچھا انسان صرف علم کا سیکھنا بناتا ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو علم حاصل کرنے، اپنے سیکھے گئے علم پر عمل کرنے اور اپنا علم دوسروں تک پہنچانے کی کاوشوں میں کامیاب کرے آمین یاربالعالمین۔

ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالا)