کیا محبت واقعی ختم ہو جاتی ہے؟

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالہ)
  • صنف : کالم
  • عنوان : کیا محبت واقعی ختم ہو جاتی ہے؟

محبت ہے کیا؟
محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے۔ جو الہام کی صورت میں دلوں میں ڈال دی جاتی ہے۔ کسی کو درد میں دیکھ کر خود بھی بے سکون رہنا محبت ہے۔

محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ کسی انسان کو بن دیکھے، بن جانے اس انسان کا آپ کی سوچوں کا مرکز بن جانا، آپ کے قلب کا مسلسل اس انسان کو پانے کی خواہش کرنا، محبت انا سے پاک ہوتی ہے، محبت میں عیب جیسا لفظ تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ محبت میں آپ ایک انسان کے پابند ہوتے ہیں۔ آپ پل پل جلتے رہتے ہیں کچھ ایسی چیزوں پر جو آپ کو اپنی پسند میں ناپسند ہوں، جیسا کہ محبت میں شراکت کو برداشت کرنا آپ کی آنکھوں کو ہر وقت نم کرتا ہے۔ لیکن آپ اس انسان کو کبھی بھی اپنا پابند نہیں کرتے، محبت میں زنجیریں، قید جیسا کچھ نہیں ہوتا، محبت میں آپ اپنا بھلا دیتے ہیں بس وہ انسان یاد رہتا ہے، جس سے آپ کو محبت ہے۔ محبت کی نہیں جاتی، محبت ہوجاتی ہے۔ محبت یک طرفہ بھی ہو سکتی ہے۔ یک طرفہ محبت ایک آزمائش بھی ہوسکتی ہے اور یک طرفہ محبت راحت بھی ہوسکتی ہے۔ یہ آپ کی قسمت پر انحصار ہے۔

اکثر اوقات لوگ اپنی محبت سے اس لیے دستبردار ہوجاتے ہیں کہ یہ انسان حیثیت میں، دین میں یا دنیاوی علم میں آپ سے زیادہ ہے۔ یا وہ دین سے دوری پر ہے۔
“ہمسفر اگر نیک نہ ہو تو اسے نیک کرنا آپ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔”

اپنا رُتبہ بڑھا دیتے ہیں مگر کسی کو اس بنا پر نہیں چھوڑتے کہ ہم اس انسان کے قابل نہیں ہیں۔
کیوں قابل نہیں ہیں؟ کبھی پوچھا خود سے۔ یہ بس خود کے ساتھ ناانصافی ہے۔ جب رب العالمین نے کسی چیز کا خیال آپ کے دل میں ڈال دیا ہے، اور آپ بغیر کاوش کے ہی اپنے ہاتھ کھڑے کر دیں، یہ تو غلط ہے۔ آپ کوشش کریں کیوں کہ ہم انسانوں کے اختیار میں صرف کوشش کرنا ہی ہے، اور سب سے بڑھ کر دعا کرنا۔ جب رب العالمین نے دعا کا کہا ہے تو دعا کریں اور بار بار کریں وہ رب ضرور نوازتا ہے۔ اگر نہیں نوازے گا آپ کی پسند کی چیز سے تو وہ آپ کے حق میں بہترین نہیں ہیں۔ دوسروں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں، مگر اس انصاف میں اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتے، آخری مراحل تک لڑتے ہیں، چھوڑتے نہیں ہیں ڈٹ جاتے ہیں۔ جب ہم مخلصی دکھائیں گے تبھی تو اللہ تعالیٰ نوازیں گے ناں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میرا یہ بندہ میرے بندے کو تکلیف تو نہیں پہنچائے گا۔ یہ بھی ایک آزمائش ہی ہوتی ہے۔ محبت یک طرفہ ہو یا دو طرفہ اتنی صدق ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی محبت سے نواز دیں۔

“جہاں تک مجھے لگتا ہے محبت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔”
ہمیں اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے، اس رشتے میں عزت اور خلوص ہوتا ہے۔ والدین کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے اس رشتے میں قربانیاں اور احساسات ہوتے ہیں۔ بہن بھائی ہیں ایک ہی خون ہیں ایک دوسرے کے لیے جان تک دینے کو تیار ہو جاتے ہیں دونوں ایک دوسرے سے محبت کے دعویدار ہوتے ہیں، اس رشتے میں انسیت ہوتی ہے۔ جس طرح ہر رشتے کا الگ مقام ہے اسی طرح ہر رشتے سے محبت کا انداز، محبت کی فوقیت بھی الگ ہی ہوتی ہے۔

جب ان رشتوں سے محبت کوئی بھی کسی بھی طرح ختم نہیں کرسکتا۔ تو محرم سے بھی محبت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔ نامحرم سے محبت کو ہمارے دین میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ سے اس کو حلال طریقے سے مل جانے کی دعا کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ دفن ہوجائے تو سمجھ جانا چاہیے کہ حلال محبت منتظر ہے۔ البتہ اگر آپ یہ کہیں کہ مجھے پہلے اپنے شوہر سے یا بیوی سے محبت تھی۔ لیکن اب میں اس سے محبت نہیں کرتا یا کرتی تو محبت کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ ایسا رشتہ ہے جس میں خلوص، انسیت، قربانی، احساسات، عقیدت، سمجھوتہ، عزت سب کچھ ہوتا ہے۔ آپ اپنے دل سے پوچھیں کیا ایسی محبت ختم ہوسکتی ہے؟
نہیں ہرگز نہیں۔

کچھ بھی ایسے نہیں ملتا ناں؛ تو جنہیں محبت ہوتی ہے، اُن کا امتحان بھی ہوتا ہے اور امتحان کسی بھی چیز کا ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ یقین، آزادی، سمجھوتہ، عزت، دنیا کا مخالف ہو جانا۔ لیکن اگر آپ اور وہ ہر طرح کے حالات میں بھی ایک دوسرے کے ہمراہ ہیں تو آپ ان سے اور وہ آپ سے سچی محبت کرتے ہیں۔