شانِ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

0
  • ازقلم: فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالہ)
  • صنف: مضمون
  • عنوان: شانِ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمدﷺ سے مل جاتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسم گرامی’’معاویہ بن ابی سفیان” ہے، اور کنیت ابو عبدالرحمن ہے، اور رشتہ نبوت کی وجہ سے ’’خال المؤمنین ‘‘ احتراماً کہا جاتا ہے، کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں، اسی رشتہ کی بدولت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے ’’برادرِ نسبتی” ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 6 ہجری صلح حدیبیہ کے بعد ایمان کی دولت سے مال مال ہوئے، مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کو پوشیدہ رکھا۔

اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی قوم کے سردار تھے۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اطاعت کرتے تھے، اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت کے اعتبار سے کافی مالدار بھی تھے۔عرب میں ہر سو جہالت تھی لوگ پڑھنے لکھنے سے ناواقف تھے، مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا، جو علم کی روشنی سے آراستہ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کرنے کو اسی لیے چھپایا کیوں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ جانے سے ڈرتے تھے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ کا شمار کاتبینِ وحی میں ہوتا ہے ۔البتہ لکھا جاتا ہے کہ: “جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوتی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے قلم بند فرماتے اور جو خطوط و فرامین آپ ﷺ کے دربار سے جاری ہوتے انہیں بھی تحریر فرماتے تھے۔ وحی خداوندی لکھنے کی وجہ سے آپ کو “کاتبِ وحی’ کہا جاتا ہے۔ علامہ ابن حزمِ لکھتے ہیں کہ: نبی کریم ﷺ کے کاتبین میں سب سے زیادہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہے اور اس کے بعد دوسرا درجہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ دن رات آپﷺ کے ساتھ لگے رہتے اور اس کے سوا کوئی کام نہ کرتے تھے۔
شاعر لکھتے ہیں:

نرمی، شفقت، حلم کا پیکر
دشمن کو بھی دیتے رہتے گوہر
صبر کا چراغ، علم کا نور
معاویہ تھے حق کے حضور

حضرتِ امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ نے دعاؤں سے نوازا کبھی علم و حلم کی یوں دعا دی: “اے اللہ! معاویہ کو علم اور حلم (بردباری) سے بھر دے۔”
(تاریخ کبیر،ج 8،ص68،حدیث:2624)
کبھی ہدایت کا روشن ستارہ یوں بنایا: “یا اللہ! معاویہ کو ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنا۔”
(ترمذی،ج 5،ص455،حدیث:3868)

کبھی نوازشوں کی بارش کو یوں برسایا: “اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب کا علم عطا فرما اور اس سے عذاب کو دور فرما۔”
(مسنداحمد،ج6،ص85،حدیث:17152)
کبھی خاص مجلس میں ان کی عظمت پر یوں مہر لگائی: “معاویہ کو بلاؤ، اور یہ معاملہ ان کے سامنے رکھو، وہ قوی اور امین ہیں۔”
(مسند بزار،ج8،ص433،حدیث:3507)

کبھی سفر میں خدمت کا شرف بخشا اور وضو کرتے ہوئے نصیحت فرمائی: “معاویہ! اگر تم کو حکمران بنایا جائے، تو اللہ پاک سے ڈرنا اور عدل و انصاف کا دامن تھام کر رکھنا۔”
(مسند احمد،ج 6،ص32، حدیث: 16931)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اخلاص، عہد وفا، علم و فضل، فقہ و اجتہاد، حسن سلوک، سخاوت، تقریر و خطابت، مہمان نوازی، تحمل و بردباری، اتباع سنت، تقویٰ و پرہیز گاری،جیسے عمدہ اصاف کے مالک تھے۔ حضرت امیر معاویہ اپنا کام اچھے سے سرانجام دینے اور اپنی اصلاح کرنا بھی پسند کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مکتوب روانہ کیا کہ: ” مجھے وہ باتیں لکھ دیں جن میں میرے لیے نصیحت ہو۔”
(ترمذی، ج4، ص186، حدیث: 2422مختصراً)

حضرت مولانا عاقل حسامی ؒ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک منقبت لکھی تھی، اس کے چند اشعار یہ ہیں:

ہیں پیکر جود و سخا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
محبوب خاصانِ خدا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سالے شہ لولاک کے، کاتب قرآن پاک کے
بے شبہ ہیں ذی مرتبا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ہم کون جو ناراض ہوں، کینہ رکھیں، جب آپ سے
راضی نبی، راضی خدا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
اعلی تمہارا مرتبہ کیا حرف تم پر آئے گا
ناداں کہیں گر کچھ بُرا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
جس کو نبی ہادی کہیں، اس کو کہے گمراہ جو
کیا حشر ہواؤس کا بھلا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عاقل ؔ بہ افضالِ خدا، عاشق ہے اہل بیت کا
اور آپ کا مدح سرا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے نیک بندوں سے کینہ رکھتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں بھی بہت سے لوگ گستاخی کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ صحابہ سے محبت ہم پر فرض ہے اس کے بغیر آپ کا ایمان نامکمل ہے۔

رب العالمین ہم سب کو اہل بیت سے محبت کرنے اور ہمیں ہمارے حاصل کیے گے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین يا رب العالمین۔